عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا بڑا کریش ، 80 ڈالر سے نیچے گر گئیں

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا بڑا کریش ، 80 ڈالر سے نیچے گر گئیں

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے عبوری معاہدے کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل نمایاں کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے اور قیمتیں اب امریکا ایران تنازع شروع ہونے سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔

تازہ ترین کاروبار میں برینٹ خام تیل 4.21 ڈالر یا 5.1 فیصد کمی کے بعد 78.96 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 4.70 ڈالر یا 5.8 فیصد گر کر 76.05 ڈالر فی بیرل پر آ گیا ہے۔

 امریکا ایران جنگ اور آبنائے ہرمز بحران سے قبل اپریل 2026 کے آغاز میں برینٹ خام تیل تقریباً 70 سے 75 ڈالر فی بیرل جبکہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 67 سے 72 ڈالر فی بیرل کے درمیان ٹریڈ ہو رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران معاہدہ کے بعد سونے اور چاندی کی اونچی اڑان ، فی اونس بڑا اضافہ

اس حساب سے موجودہ برینٹ خام تیل کی قیمت جنگ سے پہلے کی اوسط سطح کے مقابلے میں صرف 4 سے 9 ڈالر فی بیرل زیادہ رہ گئی ہے جبکہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل بھی سابقہ سطح سے تقریباً 4 سے 9 ڈالر فی بیرل اوپر ہے۔ جنگ کے دوران تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئی تھیں تاہم حالیہ کمی کے بعد مارکیٹ کا بڑا حصہ واپس ختم ہو چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایرانی تیل کی ممکنہ واپسی سے عالمی سپلائی بہتر ہوگی جس کے نتیجے میں قیمتوں پر مزید دباؤ آ سکتا ہے۔

عالمی سرمایہ کاری بینکوں نے بھی تیل کی قیمتوں کے حوالے سے اپنی پیش گوئیاں کم کر دی ہیں، جبکہ چین کی کمزور طلب، بلند شرح سود اور عالمی معاشی سست روی بھی خام تیل کی قیمتوں میں کمی کی اہم وجوہات قرار دی جا رہی ہیں۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles