وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے عوام کو صاف پانی کی فراہمی سے متعلق بڑا فیصلہ کرتے ہوئے 19 لیٹر پانی کی بوتلوں پر چارجز عائد کرنے کی ابتدائی تجویز مسترد کر دی وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ صوبے بھر میں صاف پانی کی مفت فراہمی کا سلسلہ جاری رکھا جائے اور اس منصوبے کو مزید مؤثر تیز اور عوام دوست بنایا جائے۔
وزیراعلیٰ کی زیر صدارت پنجاب صاف پانی اتھارٹی کے خصوصی اجلاس میں کلین ڈرنکنگ واٹر منصوبوں واٹر فلٹریشن پلانٹس بوٹلنگ پلانٹس اور گھر گھر صاف پانی کی فراہمی سے متعلق مختلف تجاویز اور سفارشات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بہاولپور رحیم یار خان، خوشاب اور ڈیرہ غازی خان میں جاری 19 لیٹر کی بوتلوں پر مشتمل پائلٹ منصوبے کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے چاروں اضلاع سے روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ طلب کرتے ہوئے عوامی رائے لینے اور پینے کے پانی کی یومیہ ضرورت کا درست تخمینہ لگانے کی ہدایت بھی جاری کی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پائلٹ منصوبے کے تحت چار اضلاع میں روزانہ 10 ہزار 19 لیٹر والی بوتلیں مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔ خوشاب میں روزانہ 860 رحیم یار خان میں 780 ڈیرہ غازی خان کے کوہِ سلمان کے دور دراز علاقوں میں 1500 جبکہ بہاولپور کے پسماندہ علاقوں میں 2780 بوتلیں تقسیم کی جا رہی ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب بھر میں 864 واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تعمیر کا کام جاری ہے جبکہ مزید 1913 فلٹریشن پلانٹس جلد شروع کیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے صوبے میں زیر تکمیل 1886 واٹر فلٹریشن منصوبے جلد مکمل کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔
حکام نے اجلاس میں صوبے بھر میں 670 جدید بوٹلنگ پلانٹس قائم کرنے کی سفارشات بھی پیش کیں۔ منصوبے کے مطابق 335 پلانٹس روزانہ 5 ہزار لیٹر جبکہ 335 پلانٹس روزانہ 10 ہزار لیٹر صاف پانی تیار کریں گے۔ اس کے علاوہ پانی کی فراہمی کے لیے 4020 ڈسٹری بیوشن پوائنٹس قائم کرنے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ صاف پینے کا پانی ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور جہاں صاف پانی دستیاب نہیں وہاں بوتلوں میں بند صاف پانی ہر صورت پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین، بزرگوں اور دور دراز علاقوں کے مکینوں کو پانی کے حصول کے لیے مشکلات اٹھاتے دیکھنا قابل قبول نہیں، اس لیے حکومت عوام کی دہلیز تک صاف پانی پہنچانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ صاف پانی کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والے ٹرکوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور منصوبوں کی رفتار مزید تیز کی جائے تاکہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ شہری اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔