امریکی دارالحکومت میں سیکیورٹی کی تاریخ کی ایک ہولناک ترین سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے وائٹ ہاؤس پر جدید ہتھیاروں، دھماکا خیز ڈرونز اور اسنائپرز کے ذریعے ہونے والے مبینہ دہشت گرد حملے کا منصوبہ ناکام بنا دیا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے سی این این کے مطابق اس خوفناک سازش کا مقصد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور معروف ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک سمیت کئی اعلیٰ عالمی و ملکی شخصیات کو قتل کرنا تھا۔
حکام کے مطابق اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا تو یہ حالیہ برسوں میں امریکی دارالحکومت میں ہونے والا سب سے بڑا اور مہلک ترین دہشتگرد حملہ ثابت ہو سکتا تھا۔ ایف بی آئی نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 5 اہم ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ اب تک کی تفتیش میں مجموعی طور پر 23 افراد کو اس بھیانک سازش کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
حملہ کا ہدف، امریکا کی 250 ویں سالگرہ اور ٹرمپ کی 80 ویں سالگرہ کا ایونٹ
رپورٹ کے مطابق اس مبینہ دہشتگرد منصوبے پر عمل درآمد 14 جون کو وائٹ ہاؤس کے ساؤتھ لان میں منعقد ہونے والے ایک ہائی پروفائل ایونٹ ’یو ایف سی فریڈم 250‘ کے دوران کیا جانا تھا۔
یہ تقریب امریکا کی آزادی کی 250 ویں سالگرہ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 80 ویں سالگرہ کی مشترکہ مناسبت سے منعقد کی گئی تھی، جس میں سیاست، بزنس اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی سیکیڑوں اعلیٰ شخصیات سمیت تقریباً 100000 افراد شریک تھے۔
تاہم ایف بی آئی نے انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے اس منصوبے کو تقریب سے چند روز قبل، یعنی 10 جون کو ہی ناکام بنا دیا۔ تفتیش کے دوران معلوم ہوا ہے کہ سازش میں ملوث بعض مشتبہ افراد 12 اور 13 جون کو ریاست ورجینیا کے شہر فریڈرکسبرگ میں جمع ہونے والے تھے تاکہ حملے کی حتمی تیاریوں اور حکمتِ عملی کو آخری شکل دی جا سکے۔
19 سالہ نوجوان کی گرفتاری اور ‘سگنل’ ایپ سے شواہد کا انکشاف
امریکی تحقیقاتی اداروں کو اس خطرناک ترین سازش کا سراغ اس وقت ملا جب ایک 19 سالہ نوجوان ’ٹائسن پراپر‘ کے والدین نے اپنے بیٹے کی مشکوک اور پراسرار سرگرمیوں کو بھانپتے ہوئے خود متعلقہ حکام کو رپورٹ کی، جس نے اس کی گرفتاری میں کلیدی کردار ادا کیا۔
اس گرفتاری کے بعد تفتیش کاروں نے دائرہ وسیع کیا اور مشتبہ افراد کے موبائل فونز اور انتہائی محفوظ سمجھی جانے والی انکرپٹڈ میسجنگ ایپ ’سگنل‘ پر ہونے والی خفیہ گفتگو تک رسائی حاصل کی، جہاں سے حملے کی مکمل پلاننگ کے ناقابلِ تردید شواہد ملے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جب ٹائسن پراپر کے گھر کی تلاشی لی، تو وہاں سے واشنگٹن ڈی سی کے تفصیلی نقشے اور تصاویر برآمد ہوئیں، جن کے ساتھ ایک تحریری چیٹ پلان بھی ملا۔
اس پلان میں باقاعدہ نشان دہی کی گئی تھی کہ اسنائپرز کو کن مقامات پر تعینات کیا جائے گا اور بارود سے لیس ڈرونز کہاں سے لانچ کیے جائیں گے۔ 19 سالہ ملزم پر امریکا کے خلاف سنگین جرم کرنے کی سازش اور امریکی حکام کے قتل کی کوشش سمیت متعدد سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
دھماکے، بھگدڑ اور اسنائپرز کی فائرنگ کا منصوبہ
ایف بی آئی کی جانب سے گرفتار ملزمان سے کی جانے والی ابتدائی تفتیش کے مطابق، حملہ آوروں کا پلان انتہائی منظم اور خونریز تھا۔
منصوبے کے مطابق سب سے پہلے بارود اور دھماکا خیز مواد سے لیس ڈرونز کے ذریعے وائٹ ہاؤس کے قریبی عمارات کو نشانہ بنانا تھا، تاکہ تقریب میں موجود 100000 کے ہجوم میں شدید خوف و ہراس اور بڑے پیمانے پر بھگدڑ مچ جائے۔
بھگدڑ مچنے کے بعد جب خوفزدہ لوگ جان بچانے کے لیے مخصوص راستوں کی طرف بھاگیں گے، تو وہاں پہلے سے پوزیشن سنبھالے ہوئے اسنائپر ٹیمیں ان پر اندھا دھند گولیاں برسائیں گی، تاکہ جانی نقصان کو زیادہ سے زیادہ کیا جا سکے۔
تیسرے مرحلے میں حملہ آوروں کا ایک اور دستہ وائٹ ہاؤس کے داخلی دروازوں پر دھاوا بولنے اور اندر داخل ہونے کا ارادہ رکھتا تھا۔
حملہ آوروں کے نظریات اور ہدف کا پس منظر
سیکیورٹی دستاویزات کے مطابق، ملزمان مبینہ طور پر شدید انتہا پسند اور حکومت مخالف نظریات کے حامل تھے اور ان کا ہدف وہ سیاست دان، ارب پتی شخصیات اور مقتدر حلقے تھے جنہیں وہ ‘امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی’ یا امریکی اشرافیہ (اسٹیبلشمنٹ) سے وابستہ سمجھتے تھے۔
اگرچہ ایف بی آئی نے تاحال گرفتار ہونے والے تمام ملزمان کی قومیتیں اور شناخت مکمل طور پر ظاہر نہیں کی ہیں، تاہم امریکی میڈیا کے مطابق عدالتی کارروائی کے آغاز کے ساتھ ہی دیگر 18 افراد کی تفصیلات بھی پبلک ہونے کی توقع ہے۔
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے میڈیا کو بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غیر معمولی اور بروقت کارروائی سے ایک تاریخی سانحہ ٹل گیا ہے، تاہم تحقیقات ابھی جاری ہیں اور مزید گرفتاریوں کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔