اٹلی کے علاقے اپولیا میں موجود ایک قدیم زیتون کا درخت اپنی منفرد شکل کے باعث دنیا بھر میں لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ مقامی لوگ اسے ’’الویو پینساٹورے‘‘یعنی’’سوچنے والا درخت‘‘ کہتے ہیں۔
اس درخت کے تنے کی قدرتی بناوٹ ایسی ہے کہ دور سے دیکھنے پر یہ ایک عمر رسیدہ دانا انسان کے چہرے جیسا محسوس ہوتا ہے۔ تنے کے ابھار اور لکڑی کے خم ایسے نظر آتے ہیں جیسے کوئی شخص آنکھیں بند کیے گہری سوچ میں ہو، جس کا چہرہ، ناک اور ٹھوڑی تک واضح دکھائی دیتی ہے۔
یہ تاریخی درخت اٹلی کے جنوبی علاقے اپولیا میں واقع ہے، جو صدیوں پرانے زیتون کے باغات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ یہاں کا موسم اور زمین زیتون کے درختوں کی طویل زندگی کے لیے انتہائی موزوں سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس درخت کی عمر 1500 سال سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ زیتون کے درخت وقت گزرنے کے ساتھ اندر سے کھوکھلے اور باہر سے پیچیدہ شکل اختیار کر لیتے ہیں، جس کے باعث ان کے تنے مختلف منفرد انداز اختیار کر لیتے ہیں۔
ماہرین نفسیات کے مطابق انسان کا دماغ اکثر بے جان چیزوں میں جانی پہچانی شکلیں تلاش کرتا ہے۔ اس عمل کو ’’پیرائیڈولیا‘‘کہا جاتا ہے، جس میں لوگ بادلوں، چٹانوں یا درختوں میں انسانی چہرے یا دوسری معروف شکلیں محسوس کرتے ہیں۔
’’سوچنے والا درخت‘‘ بھی قدرتی تبدیلیوں اور انسانی تصور کا ایسا خوبصورت امتزاج ہے، جس نے ایک عام درخت کو دنیا کی دلچسپ قدرتی عجائبات میں شامل کر دیا ہے۔