سمندری طوفان ڈولفن نے جاپان اور چین کے مختلف علاقوں میں شدید موسمی صورتحال پیدا کردی ہے۔ طوفان کے باعث تیز ہواؤں اور موسلادھار بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ کئی علاقوں میں معمولات زندگی متاثر ہوئے ہیں۔
جاپان کے علاقے اوکیناوا میں طوفان کے باعث مختلف حادثات میں کم از کم 6 افراد زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جبکہ 50 ہزار سے زائد عمارتوں کی بجلی بھی معطل ہوگئی ہے۔
موسمی طوفان نے جاپان سے گزرنے کے بعد چین کے مشرقی ساحلی علاقوں کا رخ کیا جہاں اس کے اثرات نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ چینی محکمہ موسمیات نے کئی علاقوں میں شدید بارشوں اور تیز ہواؤں کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔ حکام نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی ہے۔
چینی محکمہ موسمیات کے مطابق صوبہ جی جانگ کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کا امکان ہے اور بعض مقامات پر بارش کی مقدار 500 ملی میٹر تک پہنچ سکتی ہے۔ موسلادھار بارش کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور شہری و دیہی علاقوں میں آمدورفت متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ شنگھائی میں بھی طوفان کے باعث بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
شدید موسمی حالات کے باعث چین کے اہم تجارتی اور سفری مراکز میں بھی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ شنگھائی کے دو بڑے ہوائی اڈوں سے 1384 پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں جس کے باعث ہزاروں مسافروں کو سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایئرپورٹ حکام کی جانب سے مسافروں کو اپنی پروازوں سے متعلق تازہ معلومات حاصل کرنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
سمندری طوفان کے باعث بحری سرگرمیاں بھی محدود کردی گئی ہیں۔ چین کی یانگشان بندرگاہ پر 500 سے زائد کشتیوں کو سمندر میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سمندر میں تیز ہواؤں اور بلند لہروں کے باعث کشتیوں اور دیگر بحری جہازوں کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
جاپان میں بھی طوفان کے اثرات کے باعث بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ اوکیناوا میں ہزاروں گھر اور عمارتیں بجلی سے محروم ہوگئیں جبکہ مختلف حادثات میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے صورتحال پر نظر رکھتے ہوئے امدادی اداروں کو متحرک کردیا ہے۔
ماہرین موسمیات کے مطابق طوفان کے اثرات کے دوران تیز ہواؤں اور شدید بارشوں کے باعث مزید مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ جاپان اور چین میں متعلقہ ادارے موسم کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ شہریوں کو ممکنہ سیلاب، تیز ہواؤں اور دیگر خطرات سے محفوظ رہنے کے لیے احتیاطی اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔