آزاد کشمیر کے حلقہ ایل اے 17 حویلی فارورڈ کہوٹہ میں پولنگ سے قبل دو پریزائیڈنگ افسران کی گرفتاری اور بعد ازاں بغیر مقدمہ درج کیے رہائی کے معاملے نے انتخابی عمل کے حوالے سے کئی سوالات پیدا کردیئے ہیں۔ دونوں افسران کو مبینہ طور پر بیلٹ پیپرز پر دستخط اور سرکاری مہریں لگانے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا تاہم بعد میں انہیں رہا کرکے پولنگ ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ممتاز آباد کے پولنگ اسٹیشن نمبر 160 گرلز مڈل اسکول دھڑک خاص اور پولنگ اسٹیشن نمبر 153 بوائز پرائمری اسکول شی بن پر تعینات پریزائیڈنگ افسران سید حمید بخاری اور لیاقت حسین کیانی کو پولنگ سے ایک رات قبل سکیورٹی فورسز نے حراست میں لیا۔ دونوں افسران کے بارے میں الزام سامنے آیا کہ وہ پولنگ میٹریل کے حوالے سے قواعد کی خلاف ورزی کر رہے تھے اور بیلٹ پیپرز پر مبینہ طور پر دستخط اور مہریں لگا رہے تھے۔
حراست میں لیے جانے کے بعد دونوں پریزائیڈنگ افسران کو ان کے مقررہ پولنگ اسٹیشنز سے ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ نئے پریزائیڈنگ افسران تعینات کردیئے گئے۔ تاہم ان کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج نہ ہونے اور بعد ازاں رہائی کے معاملے نے سیاسی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔
مسلم لیگ ن کے امیدوار چوہدری محسن عزیز نے دونوں پریزائیڈنگ افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے ریٹرننگ افسر کو درخواست بھی جمع کرا دی ہے۔ مسلم لیگ ن کے ذرائع کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ دونوں افسران وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کے قریبی افراد میں شمار ہوتے ہیں اور محکمہ تعلیم میں اسسٹنٹ ایجوکیشن افسر کے عہدوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
مسلم لیگ ن کے ذرائع نے مزید دعویٰ کیا کہ دونوں پریزائیڈنگ افسران وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کے ایک سیاسی جلسے میں بھی شریک ہوچکے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
حلقہ ایل اے 17 حویلی فارورڈ کہوٹہ کو آزاد کشمیر کے حساس انتخابی حلقوں میں شمار کیا جاتا ہے جہاں ماضی میں مختلف سیاسی اور برادریوں کے درمیان کشیدگی کے واقعات بھی سامنے آچکے ہیں۔ حلقے میں راٹھور اور گوجر برادریوں کے درمیان ماضی کے تنازعات کے باعث انتخابی ماحول پہلے ہی خاصا حساس سمجھا جارہا ہے۔
اس سے قبل آزاد کشمیر کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں کوٹلی سے بھی پریزائیڈنگ افسران کو مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کے الزام میں حراست میں لیے جانے اور ان کے خلاف مقدمات درج کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ اسی پس منظر میں حویلی کہوٹہ کے واقعے نے انتخابی انتظامات اور نگرانی کے طریقہ کار پر مزید توجہ مرکوز کردی ہے۔
حلقے میں سیاسی مقابلہ بھی انتہائی اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ مسلم لیگ ن کے امیدوار چوہدری محسن عزیز اور وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کے درمیان سخت مقابلے کی صورتحال بتائی جارہی ہے۔ چوہدری محسن عزیز سابق مسلم لیگ ن رہنما چوہدری محمد عزیز مرحوم کے صاحبزادے ہیں جو 2016 کے انتخابات کے دوران انتخابی مہم کے دوران فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہوئے تھے۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما خواجہ طارق سعید بھی وزیراعظم فیصل راٹھور کے لیے انتخابی میدان میں ایک اہم چیلنج قرار دیے جارہے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں پریزائیڈنگ افسران کی گرفتاری اور رہائی کے واقعے نے حلقے کے انتخابی ماحول کو مزید حساس بنا دیا ہے اور سیاسی جماعتیں انتخابی عمل کی شفافیت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔