عوام کا ٹیکس سود میں جا رہا ہے، تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ غریب کے ساتھ مذاق ہے، حافظ نعیم الرحمان

عوام کا ٹیکس سود میں جا رہا ہے، تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ غریب کے ساتھ مذاق ہے، حافظ نعیم الرحمان

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے وفاقی بجٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے عوامی فلاح و بہبود سے عاری اور سودی نظام کا بدترین تسلسل قرار دیا ہے۔

کراچی میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بجٹ میں غریب اور متوسط طبقے کے لیے کوئی نئی یا مثبت چیز شامل نہیں کی گئی، بلکہ بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ غیر ملکی اور ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگی میں ہی صرف ہو رہا ہے، جس کا پورا بوجھ ٹیکس گزاروں کی جیب پر پڑے گا۔

سودی معیشت اور پارلیمنٹ کا تضاد

حافظ نعیم الرحمان نے وفاقی بجٹ کے اعداد و شمار پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ 18 ہزار ارب روپے کے کل وفاقی بجٹ میں سے آدھے سے زیادہ رقم صرف سود کی ادائیگیوں میں چلی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں گرگئیں، پیٹرول کی قیمت فوری 225 روپے کی جائے، حافظ نعیم الرحمان

انہوں نے اس صورتحال پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایک اہم پس منظر کا حوالہ دیا کہ پارلیمنٹ کے اندر ایک غیر مسلم اقلیتی رکن نے بھی سود کو اللہ تعالیٰ سے جنگ قرار دیا تھا، لیکن اس کے باوجود ہمارے حکمران ہوش کے ناخن نہیں لے رہے۔

ملک سے سود کے خاتمے کے لیے وفاقی شرعی عدالت کے واضح فیصلوں کے باوجود سودی لین دین کو ختم کرنے کے بجائے اس میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔

540 ارب روپے کا اضافی بوجھ اور ٹیکسوں کا بے جا استعمال

امیر جماعت اسلامی نے سودی معیشت کے بھیانک اثرات کا دعویٰ کرتے ہوئے بتایا کہ سود کی ان اندھا دھند ادائیگیوں کے باعث ملکی معیشت پر 540 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑتا ہے۔

انہوں نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام کا خون چوس کر جو ٹیکس وصول کرتی ہے، اسے ترقیاتی منصوبوں یا عوامی ریلیف پر لگانے کے بجائے صرف اور صرف بین الاقوامی اور مقامی اداروں کے قرضوں کا سود بھرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ معاشی چکر ملک کو مزید تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔

تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ مذاق قرار

وفاقی حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں محض 7 فیصد اضافے کے اعلان پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے اسے اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف اور ناکافی قرار دیا۔

 ان کا کہنا تھا کہ ملک میں جاری کمر توڑ مہنگائی کے تناسب سے یہ معمولی اضافہ عوام کو کوئی حقیقی ریلیف فراہم نہیں کر سکے گا، بلکہ یہ سرکاری ملازمین کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہے۔

مزید پڑھیں:پیٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو ہڑتال کریں گے، حافظ نعیم الرحمٰن

انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ ای او بی آئی (ملازمین کے بڑھاپے کے فوائد کا ادارہ) کے فنڈز میں بھی بڑے پیمانے پر ڈنڈی ماری جاتی ہے، جبکہ غریب ملازمین کی تنخواہوں سے ہر ماہ باقاعدگی کے ساتھ کٹوتیاں کی جاتی ہیں لیکن بدلے میں انہیں ان کا جائز حق اور ریلیف نہیں ملتا۔

بجٹ کا سودی ڈھانچہ اور عوامی ردِعمل

حافظ نعیم الرحمان کی جانب سے اٹھائے گئے نکات پاکستان کے معاشی بحران کی اصل جڑ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جب کسی ملک کے کل بجٹ کا 50 فیصد سے زیادہ حصہ صرف پچھلے قرضوں کے سود (ڈیٹ سروسنگ) کی نذر ہو جائے، تو اس ملک کے پاس تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دفاع کے لیے بہت کم گنجائش بچتی ہے۔

سیاسی لحاظ سے، جماعت اسلامی نے ایک بار پھر خود کو عوامی امنگوں کے ترجمان کے طور پر پیش کیا ہے، خاص طور پر سودی نظام کے خلاف موقف اختیار کر کے انہوں نے اپنے روایتی مذہبی اور معاشی بیانیے کو مضبوط کیا ہے۔

مہنگائی کے دور میں تنخواہوں میں صرف 7 فیصد اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت سخت ترین بجٹ بنانے پر مجبور تھی، جہاں اخراجات کو کم سے کم اور ٹیکسوں کو زیادہ سے زیادہ کرنا اس کی مجبوری بن چکا ہے۔

تاہم، متبادل معاشی اصلاحات اور امیر طبقے پر ٹیکس لگائے بغیر صرف غریب اور تنخواہ دار طبقے کو نشانہ بنانا حکومت کے لیے آنے والے دنوں میں شدید سیاسی مزاحمت اور عوامی احتجاج کا سبب بن سکتا ہے۔

Related Articles