پاکستان کی نئی ایئرلائن ساؤتھ ایئر نے باقاعدہ پروازوں کا آغاز کر دیا

پاکستان کی نئی ایئرلائن ساؤتھ ایئر نے باقاعدہ پروازوں کا آغاز کر دیا

پاکستان کی نئی علاقائی ایئرلائن ساؤتھ ایئر نے باقاعدہ پروازوں کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت کراچی سے تربت کے راستے کوئٹہ اور بہاولپور سے اسلام آباد کے لیے فضائی سروس شروع کر دی گئی ہے۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق ساؤتھ ایئر کی پہلی شیڈول پرواز کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانہ ہوئی، جو تربت کے راستے کوئٹہ پہنچی۔ کوئٹہ آمد پر طیارے کو روایتی واٹر کینن سلامی دی گئی، جبکہ تقریب میں بلوچستان کے گورنر شیخ جعفر خان مندوخیل بھی شریک ہوئے۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے کہا ہے کہ ساؤتھ ایئر کی پروازیں جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ڈومیسٹک نیٹ ورک میں ایک اہم توسیع ہیں۔ ایئرلائن تربت روٹ پر ہفتہ وار ایک جبکہ بہاولپور روٹ پر ہفتے میں تین پروازیں چلائے گی۔

پاکستان کے کئی چھوٹے شہروں میں گزشتہ برسوں کے دوران فضائی رابطے میں کمی آئی ہے کیونکہ بیشتر ایئرلائنز نے کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے منافع بخش روٹس پر توجہ مرکوز رکھی۔ بہاولپور ایئرپورٹ سے قومی ایئرلائن کی پروازیں بند ہونے کے بعد 2023 کے آخر تک یہ روٹ غیر فعال ہو گیا تھا، جبکہ تربت، جو بلوچستان کے مکران خطے کا اہم تجارتی مرکز ہے، کو بھی محدود فضائی سہولتیں دستیاب تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں طوفانی بارشوں کا الرٹ، پنجاب میں ایمرجنسی نافذ

ساؤتھ ایئر کو ٹورازم پروموشن اینڈ ریجنل انٹیگریشن (TPRI) لائسنس کے تحت آپریشن کی اجازت دی گئی ہے، جو پاکستان کی نئی ایوی ایشن پالیسی کے تحت علاقائی فضائی رابطوں کو فروغ دینے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایئرلائن نے مئی میں اپنا پہلا ATR 72-500 طیارہ حاصل کیا تھا، جو چھوٹے ایئرپورٹس کے لیے موزوں ٹربوپراپ جہاز ہے۔ اس طیارے کے ذریعے گوادر اور کوئٹہ سمیت دیگر علاقائی روٹس پر آزمائشی پروازیں بھی کی گئی تھیں۔

ساؤتھ ایئر کی سربراہی چیف ایگزیکٹو نشت فاطمہ کر رہی ہیں، جنہیں ایئرلائن کے مطابق پاکستان میں کسی ایئرلائن کی سربراہ بننے والی پہلی خاتون قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کی وزیر تعلیم کو ہر ہفتے ایک سکول میں خود کلاس لینے کی ہدایت

نئی فضائی سروس سے توقع کی جا رہی ہے کہ بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے کم سہولت یافتہ شہروں کے فضائی رابطے بہتر ہوں گے اور مقامی تجارت، سیاحت اور سفر کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔

Related Articles