سانحہ زیارت کے شہداء کے لواحقین اور دھرنا کمیٹی کے ساتھ حکومتی مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومتی مذاکراتی وفد اور دھرنا کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو گیا ہے جبکہ دونوں فریقین کے درمیان معاہدے کے مسودے (ڈرافٹ) پر بھی اتفاق رائے ہو گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی وفد اور دھرنا کمیٹی کے نمائندوں نے معاہدے کی مختلف شقوں پر تفصیلی مشاورت کے بعد ایک متفقہ ڈرافٹ تیار کر لیا ہے جس پر دونوں فریقین جلد باقاعدہ دستخط کریں گے۔
ذرائع کے مطابق جمعہ کی نماز کے بعد معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے جس کے بعد اس معاہدے کو دھرنے کے شرکاء اور شہداء کے لواحقین کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ انہیں مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کیا جا سکے۔
اطلاعات کے مطابق معاہدہ طے پانے کے بعد شہداء کی میتیں تدفین کے لیے ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی جائیں گی جس سے کئی روز سے جاری دھرنے کے خاتمے کی راہ بھی ہموار ہونے کا امکان ہے۔
حکومتی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض خبروں میں کوئی صداقت نہیں، عوام صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ معاہدے پر دستخط کے بعد بھی حکومتی مذاکراتی وفد، دھرنا کمیٹی اور شہداء کے لواحقین کے درمیان رابطے اور بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ معاہدے پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جا سکیں۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں ہونے والی اس پیش رفت کو دھرنے کے پُرامن حل کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے جبکہ حتمی اعلان معاہدے پر دستخط اور دھرنا کمیٹی کی باضابطہ منظوری کے بعد متوقع ہے