پاکستان کی معروف ترین ٹیلی کام کمپنی جاز کے کارپوریٹ ونگ ’جاز بزنس‘ نے ملک کے سب سے بڑے آن لائن ڈیلیوری پلیٹ فارم ’فوڈ پانڈا‘ کے ساتھ ایک بڑا اسٹریٹجک معاہدہ کر لیا ہے۔
جس کے تحت فوڈ پانڈا کے ملک بھر میں پھیلے ہوئے لگ بھگ 40,000 رائیڈرز کو جدید، سستی اور کارپوریٹ سطح کی مواصلاتی سہولیات (کنیکٹیویٹی) فراہم کی جائیں گی۔
اس اہم ترین شراکت داری کے تحت جاز بزنس کی جانب سے فوڈ پانڈا کے رائیڈرز کے لیے خصوصی طور پر تیار کردہ ’مینجڈ پری پیڈ‘سلوشن نافذ کیا جائے گا۔ یہ ایک ایسا لچکدار اور جدید کارپوریٹ سسٹم ہے جو ماہانہ سبسکرپشن ماڈل پر کام کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب حکومت نے صوبے میں 170سیاحتی مقامات کی تعمیر و بحالی کی منظوری دیدی
اس سسٹم کی بدولت فوڈ پانڈا کی انتظامیہ کو اپنے ہزاروں رائیڈرز کی نیٹ ورکنگ اور مواصلاتی اخراجات پر مکمل ریئل ٹائم کنٹرول حاصل ہوگا، جبکہ رائیڈرز کو ملک کے دور دراز علاقوں میں بھی بلاتعطل اور بہترین انٹرنیٹ و کالنگ کی سہولت میسر آئے گی۔
چونکہ فوڈ پانڈا کا نیٹ ورک تیزی سے پھیل رہا ہے، اس لیے رائیڈرز اور کسٹمرز کے درمیان فوری اور سستی بات چیت کو یقینی بنانا آپریشنل کامیابی کے لیے سب سے اہم ضرورت بن چکا تھا۔
معاہدے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جاز ورلڈ کے صدر برائے انٹرپرائز سلوشنز، شہزاد رشید نے کہا کہ ’جاز بزنس کا اصل مقصد ایسے ڈیجیٹل حل تیار کرنا ہے جو کمپنیوں اور ان کے فیلڈ اسٹاف کی حقیقی ضروریات کو پورا کریں۔‘
فوڈ پانڈا کے ساتھ یہ شراکت داری اس بات کا ثبوت ہے کہ کس طرح درزی کے ناپ کی طرح تیار کردہ کسٹمائزڈ کنیکٹیویٹی فرنٹ لائن ٹیموں کو بااختیار بنا سکتی ہے، جس سے نہ صرف کاروباری کارکردگی بڑھے گی بلکہ صارفین کو بھی بہترین تجربہ ملے گا۔‘
پاکستان کا گگ اکنامی ماڈل اور فوڈ پانڈا کا نیٹ ورک
پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران آن لائن سروسز اور ’گگ اکنامی‘ (عارضی یا آزادانہ ملازمتوں پر مبنی معیشت) میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ فوڈ پانڈا نے پاکستان کے کونے کونے میں اپنی سروسز پھیلا کر لاکھوں صارفین کو گھر بیٹھے کھانے اور راشن کی ترسیل کی سہولت دی ہے۔
تاہم اس ماڈل کی سب سے بڑی کمزوری فیلڈ میں موجود رائیڈرز کا کمپنی اور کسٹمر سے رابطہ ٹوٹ جانا ہوتا تھا۔ ماضی میں رائیڈرز کو مہنگے انٹرنیٹ پیکیجز اور کمزور سگنلز کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جس سے ڈیلیوری میں تاخیر اور کسٹمرز کی شکایات بڑھ جاتی تھیں۔ جاز بزنس کا یہ اقدام اسی دیرینہ مسئلے کا مستقل حل بن کر سامنے آیا ہے۔
اس شراکت داری کے دور رس اثرات
جاز بزنس اور فوڈ پانڈا کا یہ جوڑ محض دو کمپنیوں کا تجارتی معاہدہ نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کی پختگی کا عکاس ہے۔
کاروباری لاگت میں کمی
فوڈ پانڈا جیسے بڑے ادارے کے لیے 40,000 رائیڈرز کے موبائل اخراجات کو انفرادی طور پر مانیٹر کرنا ناممکن تھا۔ ’مینجڈ پری پیڈ‘ سسٹم سے کمپنی اب ایک ہی ڈیش بورڈ سے تمام رائیڈرز کے اخراجات کو کنٹرول کر سکے گی، جس سے فضول اخراجات کا خاتمہ ہوگا۔
دیگر صنعتوں کے لیے ایک ماڈل
یہ کیس اسٹڈی صرف فوڈ اور ڈیلیوری تک محدود نہیں رہے گی۔ پاکستان میں لاجسٹکس، کوریئر سروسز، ٹرانسپورٹیشن اور فیلڈ سیلز کرنے والی دیگر بڑی کمپنیوں کے لیے بھی اب یہ راستہ کھل گیا ہے کہ وہ اپنے ہزاروں ملازمین کو جاز کے اس سمارٹ سسٹم سے جوڑ سکیں۔
فرنٹ لائن ورکرز کی سہولت
رائیڈرز کو کارپوریٹ لیول کی سستی اور مضبوط کنیکٹیویٹی ملنے سے ان کی روزانہ کی آمدن میں بچت ہوگی اور ان کے کام کرنے کی رفتار تیز ہوگی، جو کہ براہِ راست پاکستان کی معیشت کے لیے مثبت اشارہ ہے۔