وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد گھریلو صارفین بالخصوص سرد اور دور دراز علاقوں کے مکینوں پر مہنگائی کا مزید بوجھ پڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 34 روپے 33 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 276 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل مٹی کا تیل 242 روپے 33 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہو رہا تھا۔
حکومت نے اس سے قبل پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا تھا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول 5 روپے 44 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد اس کی نئی قیمت 316 روپے 15 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 31 روپے 5 پیسے فی لیٹر اضافہ کر کے نئی قیمت 354 روپے 35 پیسے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 18 جولائی سے 20 جولائی تک کے لیے کیا گیا ہے کیونکہ حکومت نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا زیادہ قریبی بنیادوں پر جائزہ لینے کا طریقہ کار اختیار کیا ہے۔
دوسری جانب آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ یا مختصر مدت کے وقفے سے تبدیلی کے حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس اہم فیصلے سے قبل ملک بھر کے تقریباً 15 ہزار پیٹرول پمپ مالکان کو اعتماد میں نہیں لیا جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔
ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے فیصلہ واپس نہ لیا تو ملک گیر ہڑتال پر غور کیا جائے گا۔ وائس چیئرمین نعمان علی بٹ نے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے کسی بھی نئے نظام پر عمل درآمد سے پہلے تمام اسٹیک ہولڈرز، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پیٹرول پمپ مالکان سے مشاورت کی جائے تاکہ کاروباری مشکلات اور ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مٹی کے تیل، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافے کا باعث بنے گا بلکہ اس کے اثرات اشیائے خور و نوش، زرعی شعبے، صنعتی پیداوار اور گھریلو ایندھن کے استعمال پر بھی مرتب ہوں گے، جس سے مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔