فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل سے قبل ارجنٹائن میں فٹبال کا جنون اپنے عروج پر ہے، جہاں لاکھوں شائقین ٹیم کی کامیابی کے لیے مختلف توہم پرستانہ رسومات اور روایات پر عمل کر رہے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ارجنٹائن کے فٹبال مداح فتح کی امید میں پرانی جرسیاں پہننے، مخصوص نشستوں پر بیٹھنے، ایک جیسے کپڑے پہننے اور دیگر روایتی ٹوٹکوں کو خوش قسمتی کی علامت سمجھتے ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ارجنٹائن نے سیمی فائنل میں انگلینڈ کو ایک کے مقابلے میں دو گول سے شکست دے کر مسلسل دوسری بار عالمی چیمپئن بننے کی امیدیں روشن کر دی ہیں۔ فائنل میں اسپین کا سامنا کرنے سے پہلے مداح اپنی اپنی روایات کو کامیابی کا ذریعہ قرار دے رہے ہیں۔
بیونس آئرس کے علاقے لینیئرز سے تعلق رکھنے والے 48 سالہ آندریس گونزالیز کا کہنا ہے کہ میچ کے دوران خاندان کا کوئی فرد اپنی نشست نہیں بدلتا۔ ان کے مطابق اگر کوئی شخص باتھ روم گیا ہو اور اسی دوران ارجنٹائن گول کر دے تو وہ میچ ختم ہونے تک وہیں رہتا ہے، کیونکہ اسے خوش قسمتی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
ارجنٹائن کے صدر خاویر میلی نے بھی اعتراف کیا ہے کہ وہ ورلڈ کپ کے دوران اپنی روایت نہیں توڑتے اور ہر میچ صدارتی رہائش گاہ سے ہی دیکھتے ہیں۔
65 سالہ ایسٹیلا وارگاس نے بتایا کہ ان کے گھر میں ہر میچ کے دوران تمام افراد ایک جیسے کپڑے پہنتے اور اپنی مقررہ نشستوں پر بیٹھتے ہیں، جبکہ ان کا پالتو کتا میچ کے دوران گھر سے باہر رکھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق انگلینڈ کے خلاف میچ میں چونکہ کتا انگلش بل ڈاگ نسل کا تھا، اس لیے اسے ارجنٹائن کی جرسی پہنائی گئی، لیکن اسپین کے خلاف فائنل میں اسے گھر سے باہر رکھا جائے گا۔
ایک اور مداح گریسیلا کامپوس کے گھر میں ان کی ساس ہر میچ کے دوران باورچی خانے میں نیلے اور سفید رنگ کا مفلر بنتی رہتی ہیں، کیونکہ خاندان اسے خوش قسمتی کی علامت سمجھتا ہے۔
ماہرِ سماجیات ڈیاگو مورزی کے مطابق ارجنٹائن میں شائقین خود کو صرف تماشائی نہیں بلکہ ٹیم کی کامیابی کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کے بقول یہی احساس انہیں مختلف رسومات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتا ہے، تاکہ وہ اپنی ٹیم کے لیے خوش قسمتی لا سکیں۔
دوسری جانب لیجنڈری فٹبالر ڈیاگو میراڈونا کی یاد بھی آج تک مداحوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ بیونس آئرس میں ان کے سابقہ گھر کو عقیدت کی علامت کے طور پر سجایا گیا ہے، جہاں شائقین حاضری دیتے ہیں، جبکہ بعض مداح اب بھی روایتی انداز میں مخالف ٹیم کے کھلاڑیوں کی تصاویر یا اسٹیکرز فریزر میں رکھ کر ارجنٹائن کی کامیابی کی دعا کرتے ہیں۔