روٹی کی قیمت میں بڑا اضافہ

روٹی کی قیمت میں  بڑا اضافہ

ملک بھر میں آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات سامنے آنے لگے ہیں، جہاں پنجاب کے صنعتی شہر فیصل آباد سمیت لاہور اور کراچی میں بھی روٹی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا، جس سے مہنگائی کے ستائے شہریوں کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔

فیصل آباد میں نان بائیوں نے روٹی کی قیمت میں 5 روپے اضافہ کرتے ہوئے نئی قیمت 15 روپے سے بڑھا کر 20 روپے مقرر کر دی ہے۔ نان بائیوں کا کہنا ہے کہ آٹے، ایل پی جی اور دیگر اخراجات میں مسلسل اضافے کے باعث پرانے نرخ پر روٹی فروخت کرنا ممکن نہیں رہا۔

شہریوں نے روٹی مہنگی ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ہی مہنگائی نے زندگی اجیرن بنا رکھی ہے، اب بنیادی خوراک کی قیمت میں اضافے نے ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔

نان بائیوں کے مطابق صرف آٹا ہی نہیں بلکہ ایل پی جی، دکانوں کے اخراجات اور روٹی پیک کرنے کے لیے استعمال ہونے والے شاپر بیگز بھی مہنگے ہو چکے ہیں، جس کے باعث انہیں قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر آٹے کی قیمت میں کمی آتی ہے تو روٹی بھی سستی کر دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: کیا بجلی کے 201 یونٹ پر پروٹیکٹڈ کیٹیگری ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی، کتنا جرمانہ لگے گا؟ کمپنی کا بڑا وضاحتی بیان آگیا

ادھر لاہور میں بھی نان بائیوں نے ازخود روٹی اور نان کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کے مطابق روٹی 25 روپے جبکہ نان 35 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ نان بائیوں کا مؤقف ہے کہ 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت تقریباً 2,400 روپے تک پہنچ چکی ہے، جس کے بعد سابقہ نرخ برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا۔

نان بائیوں نے نان کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری کے لیے متعلقہ انتظامیہ کو باضابطہ درخواست بھی دے دی ہے۔

دوسری جانب کراچی کے مختلف علاقوں میں بھی روٹی کی قیمت میں 5 روپے اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد 20 روپے میں فروخت ہونے والی روٹی اب 25 روپے میں دستیاب ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ان کے گھریلو بجٹ پر مزید دباؤ ڈال رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: موبائل فونز پر پاکستانیوں نے کتنے ارب روپے خرچ کر ڈالے؟ سرکاری رپورٹ نے چونکا دیا

ماہرین کا کہنا ہے کہ آٹے اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث ملک کے مختلف شہروں میں روٹی اور نان کی قیمتوں میں مزید ردوبدل کا امکان موجود ہے، جبکہ شہری حکومت سے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

Related Articles