کیا آبی پودے مستقبل میں دریاؤں اور جھیلوں کو مائیکرو پلاسٹکس اور زہریلے دھاتوں سے صاف کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں؟ سائنسدان اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے قدرتی طریقوں پر مبنی نئی تحقیق کر رہے ہیں۔
دنیا بھر میں مائیکرو پلاسٹکس اور بھاری دھاتیں تیزی سے دریاؤں، جھیلوں اور آبی گزرگاہوں میں شامل ہو رہی ہیں، جس سے آبی حیات، حیاتیاتی تنوع اور انسانی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
ماہرین اس وقت واٹر لیٹس سمیت ایسے تیرنے والے آبی پودوں کا مطالعہ کر رہے ہیں جن کی لمبی جڑیں پانی میں موجود آلودہ ذرات کو جذب یا پھانسنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
تحقیقی مطالعات کے مطابق واٹر لیٹس بعض بھاری دھاتوں کو آلودہ پانی سے جذب کرنے میں مدد دے سکتا ہے، جبکہ اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ مائیکرو پلاسٹکس آبی پودوں کی جڑوں کے ساتھ کس طرح چپکتے اور جمع ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس قدرتی طریقے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس میں توانائی سے چلنے والے مہنگے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی ضرورت کم پڑ سکتی ہے، کیونکہ پودے اپنی قدرتی نشوونما کے ذریعے آلودگی کم کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ بعد ازاں ان پودوں کو پانی سے نکال کر محفوظ طریقے سے تلف یا پروسیس کیا جا سکتا ہے۔
تاہم سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اس دعوے کی تاحال کوئی سائنسی تصدیق نہیں ہوئی کہ اٹلی نے ایسا خصوصی پودا تیار کر لیا ہے جو پانی میں موجود 92 فیصد مائیکرو پلاسٹکس ختم کر دیتا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس شعبے میں تحقیق حوصلہ افزا نتائج دے رہی ہے، لیکن آبی پودوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر دریاؤں کی صفائی کا نظام ابھی تحقیق کے مرحلے میں ہے اور اسے فی الحال ثابت شدہ حل نہیں کہا جا سکتا۔