سونا پھر مہنگا ! عالمی مارکیٹ میں قیمتوں نے سب کو حیران کر دیا

سونا پھر مہنگا ! عالمی مارکیٹ میں قیمتوں نے سب کو حیران کر دیا

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور مہنگائی کے خدشات کے درمیان عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی حالیہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی اطلاعات کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں جاری مسلسل تیزی رک گئی جبکہ دوسری جانب سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کی وجہ سے سونے کی قیمت میں 0.9 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطبق آج منگل کے روز عالمی منڈی میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت بڑھ کر $4,042.69 فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی سونے کے اگست کے معاہدے $4,047.40 فی اونس پر طے ہوئے۔

ٹیسٹی لائیو (tastylive) کے گلوبل میکرو ہیڈ ایلیا سپیواک (Ilya Spivak) کے مطابق سونا 4 ہزار ڈالر فی اونس کی سطح کے قریب مضبوط بنیاد بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور موجودہ حالات میں اس کی قیمت مزید بڑھنے کی گنجائش موجود ہے، ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال اب بھی مارکیٹ پر اثرانداز ہو رہی ہے، تاہم سرمایہ کار ان خبروں کو پہلے کے مقابلے میں نسبتاً محدود اہمیت دے رہے ہیں۔

تاجروں کی جانب سے نچلی سطح پر خریداری کے نتیجے میں سونا $4,000 فی اونس کی سطح کے قریب ایک تنگ دائرے میں بحال رہا، جبکہ گزشتہ سیشن میں اس کی قیمت میں 0.2 فیصد کی معمولی کمی دیکھی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں :مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی ، عالمی منڈی میں سونے کی قیمت مستحکم

مالیاتی منڈیوں کی توجہ اب امریکی فیڈرل ریزرو کے آئندہ اجلاس پر مرکوز ہے،  مارکیٹ میں عمومی توقع ہے کہ فیڈ آئندہ ہفتے شرح سود برقرار رکھے گا، تاہم سی ایم ای فیڈ واچ ٹول (CME FedWatch Tool) کے مطابق ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات 64 فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بلند شرح سود سونے جیسے ایسے اثاثوں کی کشش کم کر دیتی ہے جو سرمایہ کاروں کو براہ راست منافع یا سود فراہم نہیں کرتے، اسی لیے فیڈ کی آئندہ پالیسی سونے کی قیمتوں کے لیے اہم کردار ادا کرے گی۔

دیگر قیمتی دھاتوں میں بھی مثبت رجحان دیکھا گیا۔ہے ، چاندی کی قیمت میں 2.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ پلاٹینم اور پیلیڈیم دونوں کی قیمتوں میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا۔

یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی افواج نے ایرانی اہداف پر حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے،  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا بدلہ لیا جائے گا اور تہران کو اس کی بھاری “قیمت چکانی پڑے گی ۔

editor

Related Articles