مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی ، عالمی منڈی میں سونے کی قیمت مستحکم

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی ، عالمی منڈی میں سونے کی قیمت مستحکم

عالمی منڈی میں سونے کی قیمت امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود تقریباً 4,010 ڈالر فی اونس کے قریب مستحکم رہی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی خبر رساں ادارے بلومبرگ کے مطابق گزشتہ ہفتے سونے کی قیمت میں 2 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم تازہ صورتحال کے بعد سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق سرمایہ کار اس وقت دو اہم عوامل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، ایک جانب مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال عالمی مالیاتی منڈیوں پر اثر انداز ہو رہی ہے، جبکہ دوسری جانب امریکی مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) کی آئندہ شرحِ سود سے متعلق پالیسی بھی سونے کی قیمتوں کا رخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: سال کے آغاز میں سونا خریدنے والوں کا کیا بنا ؟ فائدہ یا نقصان ، جانیے

اس حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کی صورت میں سونا سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنا رہ سکتا ہے، جبکہ فیڈرل ریزرو کے آئندہ فیصلوں سے قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔

ادھر امریکی مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) کے متعدد پالیسی سازوں نے اشارہ دیا ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے آئندہ مہینوں میں شرحِ سود مزید بڑھائی جا سکتی ہے ، مارکیٹ کے اندازوں کے مطابق دسمبر میں شرحِ سود میں اضافے کے امکانات گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں مزید بڑھ گئے ہیں۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر شرحِ سود میں اضافہ ہوتا ہے تو سونے پر مزید دباؤ آ سکتا ہے، کیونکہ بلند شرحِ سود ایسی سرمایہ کاری کو نسبتاً زیادہ پرکشش بنا دیتی ہے جو منافع دیتی ہو، جبکہ سونا خود کوئی سود یا منافع فراہم نہیں کرتا۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر سونے کی قیمت اہم تکنیکی سطحوں سے نیچے آتی ہے تو آنے والے دنوں میں مزید کمی کا امکان بھی موجود ہے، تاہم عالمی کشیدگی کی صورتحال اب بھی سونے کی طلب پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

editor

Related Articles