وزارتِ اطلاعاتی ٹیکنالوجی و مواصلات نے ملکی تاریخ کا سب سے محفوظ اور خود مختار موبائل کمیونیکیشن نیٹ ورک ‘پاک آواز’ بنانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔
708 ملین روپے کی لاگت سے تیار ہونے والا یہ منصوبہ سرکاری افسران اور حساس ترین ڈیٹا کو عالمی و مقامی سائبر حملوں اور غیر قانونی رسائی سے مکمل تحفظ فراہم کرے گا۔
وفاقی حکومت نے ملکی تاریخ میں پہلی بار سرکاری مواصلات کو مکمل طور پر سائبر محفوظ بنانے کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھایا ہے۔
مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے ’پاک آواز سیکور موبائل کمیونیکیشن ایکو سسٹم‘ کے لیے اصولی منظوری دے دی ہے، جسے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت مکمل کیا جائے گا۔
اس تاریخی منصوبے پر 708 ملین روپے کی لاگت آئے گی اور اس کے تحت 10,000 اعلیٰ سرکاری افسران کو پاکستان ہی میں تیار کردہ خصوصی محفوظ موبائل ڈیوائسز فراہم کی جائیں گی۔
مقامی طور پر تیار کردہ موبائلز
یہ تمام 10,000 سمارٹ فونز پاکستان کے اندر ہی تیار کیے جائیں گے، جن میں ’ہارڈ ویئر روٹ آف ٹرسٹ‘ کی جدید ترین ٹیکنالوجی شامل ہوگی۔
سخت سیکیورٹی والا آپریٹنگ سسٹم
ڈیوائسز میں غیر ملکی یا عام آپریٹنگ سسٹم کی بجائے مقامی طور پر تیار کردہ ’ہارڈنڈ آپریٹنگ سسٹم‘استعمال کیا جائے گا، تاکہ ہیکنگ اور وائرس کے تمام خطرات کو ناکارہ بنایا جا سکے س۔
عوام سے الگ تھلگ پرائیویٹ نیٹ ورک
نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این ٹی سی) اس منصوبے کو موجودہ سیلولر انفراسٹرکچر پر نافذ کرے گی، لیکن یہ پرائیویٹ نیٹ ورک عام پبلک موبائل نیٹ ورک سے مکمل الگ رہے گا۔
3 پردوں پر مشتمل سیکیورٹی
این ٹی سی کا یہ نیٹ ورک صارف، سم کارڈ اور خود ڈیوائس پر مبنی مرکزی ‘ملٹی فیکٹر تصدیق’ کے ذریعے کام کرے گا۔
اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ مواصلات
اس پلیٹ فارم پر کی جانے والی تمام وائس و ویڈیو کالز، پیغام رسانی اور فائلیں بھیجنے کا عمل مکمل طور پر انکرپٹڈ ہوگا، جسے کوئی بھی تیسرا فرد یا ادارہ ہیک نہیں کر سکے گا۔
این ٹی سی ڈیٹا سینٹر میں میزبان
اس پورے نیٹ ورک کا مرکزی کنٹرول اور انفراسٹرکچر این ٹی سی کے اپنے ڈیٹا سینٹر میں قائم کیا جائے گا، جبکہ نیٹ ورک آپریشنز سینٹر (این او سی) کے ذریعے اس کی 24 گھنٹے نگرانی کی جائے گی۔
سرکاری ای-آفس کا انضمام
حکومت کا اہم ترین ‘ای-آفس’ سسٹم اسی نیٹ ورک کے ذریعے فعال ہوگا، جس سے فائل ورک اور دفتری کام مکمل طور پر محفوظ ڈیجیٹل ماحول میں منتقل ہو جائیں گے۔
اس منصوبے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
حالیہ سالوں میں دنیا بھر میں ’سائبر وار فیئر‘ (انٹرنیٹی جنگ) کے واقعات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کو بھی کئی بار اہم سرکاری محکموں، وزارتی خط و کتابت اور سفارتی پیغامات پر مختلف سائبر حملوں کی کوششوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ماضی میں بین الاقوامی سائبر جاسوسی کے واقعات اور حساس ڈیٹا کی لیکس کے بعد یہ ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی کہ غیر ملکی سافٹ ویئرز اور عوامی نیٹ ورکس پر منحصر رہنے کے بجائے ایک ’صوبائی و قومی‘ سیکیورٹی فریم ورک بنایا جائے۔
’پاک آواز‘ کا مقصد کسی بھی بیرونی خفیہ ایجنسی، ہیکرز کے گروہ یا کاروباری جاسوسی سے ملک کے حساس ترین انتظامی ڈھانچے کو محفوظ بنانا ہے۔
’پاک آواز‘ منصوبے کے اثرات اور مستقبل
یہ منصوبہ محض 708 ملین روپے کا ایک ترقیاتی اقدام نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کے ‘ڈیجیٹل اقتدارِ اعلیٰ’ کی طرف ایک بڑا سنگِ میل ہے۔
جیو پولیٹیکل تحفظ
عالمی سطح پر اب جنگیں روایتی ہتھیاروں کے بجائے انفارمیشن اور ڈیٹا کی چوری سے جیتی جا رہی ہیں۔ پاک آواز پاکستان کو کسی بھی بین الاقوامی سائبر حملے کے سامنے مضبوط ڈھال فراہم کرے گا۔
مقامی صنعت کو فروغ
10,000 ڈیوائسز اور سافٹ ویئر کا پاکستان میں بننا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی آئی ٹی اور الیکٹرانکس انڈسٹری اب اہم دفاعی و مواصلاتی حل تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
کاغذی کارروائی کا خاتمہ
ای-آفس کا اس محفوظ نیٹ ورک میں شامل ہونا پاکستان میں گڈ گورننس اور شفافیت کو بڑھائے گا، کیونکہ فائلیں بغیر کسی خوف کے ڈیجیٹلی تیزی سے منتقل ہو سکیں گی۔
پیش آنے والے چیلنجز
اس منصوبے کا اصل امتحان ان ڈیوائسز کی بروقت فراہمی اور سرکاری افسران کو اس نئے سیکیورٹی پروٹوکول پر منتقل کرنا ہوگا۔ اگر وقت کے ساتھ ساتھ اس کے آپریٹنگ سسٹم اور اپ ڈیٹس کو بین الاقوامی معیار کے مطابق رکھا گیا، تو یہ باقی مسلم ممالک کے لیے بھی ایک بہترین نمونہ بن سکتا ہے۔