دنیا کی 12ویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے سے پاکستانی سمیت 10 کوہ پیما لاپتا

دنیا کی 12ویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے سے پاکستانی سمیت 10 کوہ پیما لاپتا

دنیا کی 12ویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک پر کوہ پیمائی کے دوران برفانی تودہ گرنے سے پاکستانی سمیت تقریباً 10 کوہ پیما لاپتا ہوگئے ہیں۔حادثے کے بعد متاثرہ کوہ پیماؤں سے کئی گھنٹوں سے رابطہ منقطع ہے جس کے باعث ان کی سلامتی کے حوالے سے تشویش پیدا ہوگئی ہے۔

براڈ پیک سطح سمندر سے 8 ہزار 47 میٹر بلند ہے اور قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں کے ٹو کے قریب واقع ہے۔ دنیا بھر کے کوہ پیما اس بلند اور دشوار چوٹی کو سر کرنے کے لیے پاکستان کا رخ کرتے ہیں۔ تاہم یہاں موسم کی اچانک تبدیلی۔ شدید برف باری اور برفانی تودوں کا گرنا کوہ پیماؤں کے لیے بڑے خطرات کا باعث بنتا ہے۔

الپائن کلب آف پاکستان نے براڈ پیک پر پیش آنے والے حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ برفانی تودہ جمعرات کی دوپہر کو کوہ پیماؤں کے ایک گروپ پر گرا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق برفانی تودہ گرنے کے بعد سے متاثرہ ٹیم میں شامل کوہ پیماؤں سے رابطہ قائم نہیں ہوسکا۔

 یہ بھی پڑھیں :انٹارکٹیکا میں جانے کے لیے اجازت کیوں ضروری؟برفانی صحرا میں دفن بڑے راز

اطلاعات کے مطابق متاثرہ ٹیم میں نیپال کے پانچ کوہ پیما شامل ہیں جن کی قیادت معروف نیپالی کوہ پیما نمس دائی کر رہے تھے۔ ٹیم میں ہنزہ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی بھی شامل ہیں۔

حادثے سے متاثر ہونے والے دیگر کوہ پیماؤں میں عمانی کوہ پیما نذیرہ۔ امریکی کوہ پیما میلوری گیس۔ چینی کوہ پیما مسٹر وانگ اور ایک دیگر غیر ملکی کوہ پیما شامل ہیں۔ ابتدائی اطلاعات میں متاثرہ ٹیم کے ارکان کی مجموعی تعداد تقریباً 10 بتائی گئی ہے۔

برفانی تودہ گرنے کے بعد براڈ پیک پر موجود دیگر کوہ پیماؤں اور بیس کیمپ میں موجود ٹیموں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ دشوار گزار جغرافیائی صورتحال اور بلند مقام کے باعث فوری طور پر لاپتا کوہ پیماؤں تک پہنچنا ایک بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔

الپائن کلب آف پاکستان کے صدر میجر جنرل عرفان ارشد اور کلب کی اعلیٰ قیادت نے لاپتا کوہ پیماؤں کی تلاش اور ریسکیو کے لیے متعلقہ حکومتی حکام اور اداروں سے رابطے تیز کردیئے ہیں۔ کلب کی جانب سے فوری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کرنے کے لیے دستیاب وسائل کو متحرک کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :پاکستان کی کوہ پیمائی کا بڑا کارنامہ، عابد اللہ بیگ نے بغیر اضافی ایکسیجن کے گاشر برم 2 سر کر کے دنیا کو حیران کر دیا

الپائن کلب کے مطابق موجودہ موسمی اور آپریشنل حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہیلی کاپٹر سمیت دیگر امدادی وسائل کو جلد از جلد بروئے کار لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ریسکیو ٹیموں کے لیے موسم اور پہاڑی علاقے کی دشواریاں اہم چیلنج بن سکتی ہیں۔

براڈ پیک بیس کیمپ پر موجود ذرائع نے بھی فوری ہیلی کاپٹر ریسکیو آپریشن شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔ بیس کیمپ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق لاپتا کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے وقت انتہائی اہم ہے کیونکہ بلند پہاڑی مقام پر مسلسل بدلتے موسم کے باعث ریسکیو سرگرمیوں میں مزید مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

الپائن کلب آف پاکستان نے کہا ہے کہ وہ صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے اور تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ کلب نے لاپتا کوہ پیماؤں کی بحفاظت بازیابی کے لیے دعا کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیسے ہی مزید مصدقہ معلومات موصول ہوں گی انہیں عوام کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔

editor

Related Articles