کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں واقع اسپاٹڈ لیک دنیا کے منفرد ترین قدرتی عجائبات میں شمار ہوتی ہے۔ گرمیوں کے موسم میں جب پانی بخارات بن کر اڑنے لگتا ہے تو جھیل کی سطح پر مختلف رنگوں کے گول دائرے نمایاں ہو جاتے ہیں، جو اسے ایک حیرت انگیز منظر میں تبدیل کر دیتے ہیں۔
اس جھیل کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں پانی کے اخراج کے لیے کوئی دریا یا نالہ موجود نہیں۔ بارش یا آس پاس سے آنے والا پانی جھیل میں جمع رہتا ہے اور گرمی کے باعث آہستہ آہستہ خشک ہو جاتا ہے۔ پانی کے بخارات بننے کے بعد اس میں موجود نمکیات اور معدنیات سطح پر جم جاتی ہیں، جس سے رنگ برنگے دھبے یا دائرے بن جاتے ہیں۔
جھیل میں میگنیشیم سلفیٹ، کیلشیم، سوڈیم سلفیٹ اور دیگر معدنیات مختلف مقدار میں موجود ہیں۔ انہی معدنیات اور بعض اقسام کی الجی کی وجہ سے ہر دائرے کا رنگ الگ نظر آتا ہے، جن میں سبز، نیلا، زرد اور سفید رنگ شامل ہیں۔
یہ جھیل صرف سائنسی اعتبار سے ہی نہیں بلکہ تاریخی اور روحانی لحاظ سے بھی بے حد اہم ہے۔ مقامی سائلکس اوکاناگن فرسٹ نیشنصدیوں سے اسے ’’خِلُک‘‘ یا مقدس مقام قرار دیتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ جھیل کے ہر معدنی تالاب میں شفا بخش خصوصیات موجود ہیں، اسی لیے یہ مقام ان کے لیے روحانی اہمیت رکھتا ہے۔
پہلی جنگِ عظیم کے دوران اس جھیل سے حاصل ہونے والے نمکیات اور معدنیات بارود اور گولہ بارود کی تیاری میں بھی استعمال کیے گئے تھے۔ اس وقت کے ماہرین ارضیات نے جھیل کے گاڑھے پانی کو انڈے کی سفیدی جیسا گاڑھا اور چپچپا قرار دیا تھا، جبکہ اس میں موجود سلفیٹ کی وجہ سے جھیل کے اردگرد تیز بو بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔
آج اسپاٹڈ لیک دنیا بھر کے سیاحوں، محققین اور فوٹوگرافرز کی توجہ کا مرکز ہے۔ تاہم یہ اب بھی مقامی آبادی کے لیے ایک مقدس مقام ہے، جس کی حفاظت اور احترام کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔