برطانوی توانائی کمپنی شیل نے سائپرس میں اپنی ذیلی کمپنی بی جی سائپرس کو ہنگری کی معروف آئل اینڈ گیس کمپنی ایم او ایل گروپ کے ہاتھوں 720 ملین امریکی ڈالر تک کے عوض فروخت کرنے کا تاریخی معاہدہ کر لیا ہے۔
برطانوی کثیر القومی توانائی کارپوریشن شیل نے اپنے کاروباری پورٹ فولیو کو مزید مربوط اور منافع بخش بنانے کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔
اس معاہدے کے تحت شیل اپنی ذیلی کمپنی بی جی سائپرس کو ہنگری کی کمپنی ایم او ایل گروپ کے حوالے کر دے گی۔ اس ڈیل کی مالیت زیادہ سے زیادہ 720 ملین امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے اور توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ یہ معاہدہ سال 2027 کے دوران مکمل ہو جائے گا۔
اس عمل کی تکمیل کے بعد ایم او ایل گروپ کو سائپرس کے اہم آف شور گیس بلاک میں بی جی سائپرس کا 35 فیصد غیر آپریٹنگ حصہ منتقل ہو جائے گا۔
یاد رہے کہ اسی بلاک میں مشرقی بحیرہ روم کا انتہائی اہم اور مشہور ایفروڈائٹ گیس فیلڈ بھی واقع ہے، جو خطے کی توانائی کی ضروریات کے حوالے سے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔
شیل کے انٹیگریٹڈ گیس کے صدر سیڈرک کریمرز نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدم کمپنی کی مجموعی سرمایہ کاری کو زیادہ مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
شیل اس وقت اپنی تمام تر توجہ اور وسائل کو مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی کے شعبے پر مرکوز کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
عالمی سطح پر ایل این جی کی بڑھتی ہوئی مانگ اور استعمال سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے شیل اپنے کاروبار کو مسلسل وسعت دے رہی ہے۔
اسی سلسلے میں کمپنی نے حال ہی میں یہ بھی اعلان کیا تھا کہ کینیڈا میں جاری اس کے بڑے ایل این جی منصوبے کے دوسرے مرحلے پر حتمی سرمایہ کاری کا فیصلہ سال 2026 کے اختتام تک متوقع ہے۔
ایفروڈائٹ گیس فیلڈ مشرقی بحیرہ روم میں توانائی کا ایک بڑا ذخیرہ ہے جہاں مختلف عالمی کمپنیاں شراکت دار ہیں۔ اس فیلڈ میں شیورون کی ذیلی کمپنی 35 فیصد حصے کے ساتھ بحیثیت آپریٹر فرائض سر انجام دے رہی ہے، جبکہ بی جی سائپرس کے پاس 35 فیصد اور اسرائیل کی معروف کمپنی نیو میڈ انرجی کے پاس 30 فیصد غیر آپریٹنگ حصہ موجود ہے۔
تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو شیل نے یہ اثاثہ سال 2016 میں برطانوی گیس کے بڑے ادارے بی جی گروپ کو خریدنے کے بعد اپنے کنٹرول میں حاصل کیا تھا۔
مالیاتی کارکردگی کے اعتبار سے شیل نے حال ہی میں اپنی دوسری سہ ماہی کے دوران 9.84 ارب امریکی ڈالر کا شاندار خالص منافع رپورٹ کیا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک نمایاں اضافہ ہے۔ کمپنی کے اس مالیاتی اچھال میں ایل این جی کے کاروبار کی بہترین اور شاندار کارکردگی نے سب سے اہم اور بنیادی کردار ادا کیا ہے۔
شیل کا سائپرس میں موجود اپنے گیس اثاثے کو فروخت کرنے کا فیصلہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بڑی توانائی کمپنیاں اب اپنے کاروباری ماڈل کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھال رہی ہیں۔
فوسل فیول کے روایتی منصوبوں سے ہٹ کر ایل این جی جیسے ماحول دوست اور تیزی سے ابھرتے ہوئے ایندھن پر توجہ دینا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔
ایک طرف جہاں شیل کینیڈا جیسے طویل المدتی اور بڑے منصوبوں میں بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف سائپرس جیسے غیر مرکزی اثاثوں سے سرمائے کو سمیٹ کر کور بزنس میں لگانا ایک نفع بخش کاروباری حکمت عملی ہے۔
اس ڈیل سے نہ صرف شیل کو نقد سرمائے کی فراہمی میں مدد ملے گی بلکہ اسے اپنی عالمی حکمت عملی کو تیزی سے نافذ کرنے کا موقع بھی ملے گا۔
دوسری جانب، ہنگری کے ایم او ایل گروپ کے لیے مشرقی بحیرہ روم کے اس اہم گیس فیلڈ میں قدم رکھنا ان کی علاقائی وسعت اور توانائی کے پورٹ فولیو کو مضبوط بنانے کی طرف ایک فیصلہ کن قدم ہے۔