لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے وفاقی حکومت کی کفایت شعاری پالیسی کے باوجود اپنے تمام افسران اور ملازمین کو ایک بنیادی تنخواہ کے برابر بونس دینے کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد ملازمین کو بونس کی ادائیگی کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق لیسکو کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے کمپنی کے افسران اور ملازمین کے لیے ایک بنیادی تنخواہ کے برابر بونس کی ادائیگی کی منظوری دی بورڈ کی منظوری کے بعد متعلقہ ملازمین کو بونس کی ادائیگی شروع کردی گئی ہے۔
لیسکو کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت کی جانب سے سرکاری اداروں اور مختلف محکموں کے اخراجات کم کرنے، غیر ضروری اخراجات پر قابو پانے اور کفایت شعاری کے اقدامات پر عملدرآمد کی ہدایات دی گئی ہیں۔
وفاقی حکومت کی کفایت شعاری پالیسی کا بنیادی مقصد سرکاری اداروں کے اخراجات کو محدود کرنا اور دستیاب وسائل کے محتاط استعمال کو یقینی بنانا ہے۔ ایسے میں لیسکو کے بورڈ کی جانب سے تمام افسران اور ملازمین کو ایک بنیادی تنخواہ کے برابر بونس دینے کی منظوری نے اخراجات میں کمی کی پالیسی کے حوالے سے سوالات بھی پیدا کردیے ہیں۔
لیسکو ایک سرکاری ملکیتی بجلی تقسیم کار کمپنی ہے اور اس کے معاملات وفاقی وزارت توانائی کے پاور ڈویژن کے انتظامی دائرہ کار سے متعلق ہیں۔ کمپنی حالیہ مہینوں میں انتظامی، مالی اور صارفین سے متعلق مختلف معاملات کے باعث بھی خبروں میں رہی ہے۔ ستمبر میں لیسکو نے بعض افسران کے خلاف مبینہ بدانتظامی اور قواعد کی خلاف ورزی پر محکمانہ کارروائی بھی کی تھی۔
دوسری جانب حکومت نے رواں سال سرکاری اداروں کے بورڈز کے حوالے سے بھی گورننس اور نگرانی کا نیا فریم ورک متعارف کرایا ہے، جس میں بورڈز کی کارکردگی، شفافیت، مفادات کے ٹکراؤ اور احتساب سے متعلق تقاضے مزید واضح کیے گئے ہیں۔
بونس کی منظوری کے بعد لیسکو افسران اور ملازمین میں ادائیگی کا عمل جاری ہے۔ تاہم اس فیصلے کے نتیجے میں کمپنی پر مجموعی طور پر کتنے مالی اخراجات آئیں گے اور بونس کی ادائیگی کے لیے فنڈز کس مد سے مختص کیے گئے ہیں، اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
وفاقی حکومت کی کفایت شعاری ہدایات اور سرکاری اداروں کے اخراجات میں کمی کی پالیسی کے تناظر میں لیسکو کے بونس فیصلے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ متعلقہ وزارت یا حکام اس فیصلے کے مالی اثرات کے بارے میں کیا مؤقف اختیار کرتے ہیں۔