وزیراعظم نے کیا درخواست کی کہ جماعت اسلامی نے لانگ مارچ مؤخر کردیا؟

وزیراعظم نے کیا درخواست کی کہ جماعت اسلامی نے لانگ مارچ مؤخر کردیا؟

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ اکتوبر کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردیا گیا ہے، تاہم پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے کے مطالبے پر احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ لانگ مارچ مؤخر کرنا احتجاج سے دستبرداری نہیں بلکہ حکومت کو اپنے وعدوں اور یقین دہانیوں پر عمل کا موقع دینا ہے۔

ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کے بنیادی مسائل کے لیے آواز اٹھا رہی ہے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ٹیکسوں کے بوجھ نے عام آدمی کے مسائل میں اضافہ کردیا ہے۔ ان کے مطابق ملک کے 42 شہروں میں دھرنے جاری ہیں جبکہ جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے پر حکومت سے مسلسل رابطے میں ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے بتایا کہ جماعت اسلامی حکومت کو تحریری طور پر پٹرولیم لیوی ختم کرنے کا مطالبہ پیش کرچکی ہے، تاہم اس مطالبے پر مثبت جواب نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور کراچی سے روہڑی، پھر روہڑی سے ملتان تک ٹرین مارچ اسی احتجاجی تحریک کا حصہ ہے۔

جماعت اسلامی کے امیر نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے باعث ملک میں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ریلیف پیکیج جماعت اسلامی کے مطالبات کا متبادل نہیں اور پارٹی پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

یہ بھی پڑھیں:مریم نواز کے لندن سفر کے اخراجات کتنے نکلے؟ اہم دستاویز سامنے آگئی

حافظ نعیم الرحمان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ان سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور لانگ مارچ کچھ عرصے کے لیے مؤخر کرنے کی درخواست کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ پاکستان واپس پہنچنے کے بعد جماعت اسلامی کے امیر سے ملاقات کریں گے اور عوام کے لیے مزید بہتر ریلیف پیکیج پر بات چیت کریں گے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کسی قسم کا امن و امان کا مسئلہ یا حکومت سے تصادم نہیں چاہتی، تاہم عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرتی ہے تو صورت حال مختلف ہوسکتی ہے، لیکن اگر مطالبات پورے نہ کیے گئے تو احتجاج کا اگلا مرحلہ دوبارہ شروع کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ملتان میں جماعت اسلامی کا پڑاؤ برقرار ہے اور حکومت کی جانب سے ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو لانگ مارچ کو دوبارہ آگے بڑھایا جائے گا۔ ان کے بقول وزیراعظم وطن واپس آکر ملاقات کریں گے، جماعت اسلامی حکومت سے بات چیت بھی کرے گی، لیکن پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے بنیادی مطالبے سے دستبردار نہیں ہوگی۔

حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کا مقصد فساد یا جھگڑا نہیں بلکہ عوام کو ریلیف دلانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے حکومت سے تحریری یقین دہانی لینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل کو واضح بنیاد پر آگے بڑھایا جاسکے۔

جماعت اسلامی کا ٹرین مارچ 20 ستمبر کو کراچی سے شروع ہوا تھا اور 21 ستمبر کو سکھر پہنچنے کے بعد ملتان کی جانب روانہ ہوا۔ حافظ نعیم الرحمان نے دورانِ مارچ پٹرولیم لیوی کے خاتمے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا تھا کہ اگر حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو احتجاج کو مزید وسعت دی جاسکتی ہے۔

اب جماعت اسلامی نے لانگ مارچ کو اکتوبر کے پہلے ہفتے تک مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ دھرنوں اور احتجاجی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ اس طرح حکومت کے پاس وزیراعظم کی وطن واپسی کے بعد جماعت اسلامی کے ساتھ مذاکرات اور پٹرولیم لیوی کے معاملے پر پیش رفت کا موقع موجود ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles