عام افغان شہری شدید بھوک اور کسمپرسی کا شکار، طالبان حکومت جعلی پروپیگنڈے پر لاکھوں روپے لٹانے میں مصروف

عام افغان شہری شدید بھوک اور کسمپرسی کا شکار، طالبان حکومت جعلی پروپیگنڈے پر لاکھوں روپے لٹانے میں مصروف

طالبان کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس (جی ڈی آئی) کی لیک ہونے والی خفیہ دستاویزات سے ایک ایسے بڑے پرو، طالبان سوشل میڈیا نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے جو ماہانہ 3500 سے 4000 ڈالر تک کی تنخواہوں کے عوض ڈیجیٹل پروپیگنڈا چلا رہا ہے۔

جہاں ایک طرف عام افغان عوام شدید بھوک اور غربت کی چکی میں پس رہے ہیں، وہیں حکومت جعلی خبریں پھیلانے پر پانی کی طرح پیسہ بہا رہی ہے۔

خفیہ دستاویزات کا لیک ہونا اور نیٹ ورک کا انکشاف

حال ہی میں سامنے آنے والی سنسنی خیز لیک رپورٹس کے مطابق طالبان کی انٹیلی جنس ایجنسی کے اندرونی نظام سے کچھ ایسی خفیہ فائلیں باہر آ گئی ہیں جنہوں نے ان کے پروپیگنڈا ونگ کی قلعی کھول دی ہے۔ اس نیٹ ورک میں مڈ ٹیر یعنی درمیانے درجے کے انفلونسرز سے لے کر اہم شخصیات تک شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سابق افغان رکن پارلیمنٹ بکتاش سیاوش کی طالبان حکومت کے جلد خاتمے کی پیشگوئی

دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ حیدر ہاشمی، وکیل مبارز، برہان الدین اور ملا یقوب کی مخصوص سوشل میڈیا ٹیموں کو عام انفلوئنسرز کے مقابلے میں کہیں زیادہ بھاری مالی فوائد اور فنڈز دیے جا رہے ہیں تاکہ وہ حکومت کے بیانیے کو سوشل میڈیا پر مضبوطی سے سجا سکیں۔

جعلی اکاؤنٹس اور نام نہاد میڈیا ہاؤسز کا جال

میڈیا کے مطابق یہ نیٹ ورک انتہائی منظم طریقے سے مختلف اقسام کے ٹرول اکائونٹس اور فیک نیوز پلیٹ فارمز کو آپریٹ کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں اے ایس ایف، الوحید، المرصاد، استاد برمک، اسلام آباد پوسٹ اور انفو مانیٹر جیسے ناموں سے سوشل میڈیا پیجز چلائے جا رہے ہیں۔

اس کے علاوہ یہ عناصر معروف افغان جرائد اور خبر رساں اداروں کے سوشل میڈیا ہینڈلز تک رسائی رکھتے ہیں اور اکثر خامہ، پانک، پژواک، شمشاد نیوز، تولو اور وی او ای جیسے اداروں کے نام پر من گھڑت اور جھوٹی خبریں پوسٹ کرتے ہیں تاکہ عوام کو گمراہ کیا جا سکے۔

فیکٹ چیکنگ سے متعلقہ ادارے جیسے کہ نقطہ، وار گلوب، حریت اور مارخور فیکٹس کے نام سے بھی یہی نیٹ ورک جعلی اکائونٹس چلا رہا ہے۔

کروڑوں کی فنڈنگ اور عوام کی کسمپرسی

سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ ان سوشل میڈیا آپریٹرز کو پرو طالبان بیانیہ پھیلانے کے عوض ہر ماہ 3500 سے 4000 امریکی ڈالر تک کی بھاری رقوم ادا کی جاتی ہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب افغانستان کے عام شہری 2  وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں، بچے غذائی قلت اور شدید بھوک کی وجہ سے موت کے منہ میں جا رہے ہیں، حکومتی وسائل کا اس طرح بے دردی سے جعلی خبریں اور پروپیگنڈا خریدنے پر خرچ کیا جانا حکومتی ترجیحات پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔

مزید پڑھیں:طالبان اور افغانستان فریڈم فرنٹ کے درمیان جھڑپ، 21 طالبان اہلکار ہلاک ،کمانڈر بھی شامل

جب سے طالبان نے افغانستان کا کنٹرول سنبھالا ہے وہ روایتی جنگ کے ساتھ ساتھ انفارمیشن وارفیئر اور ڈیجیٹل پروپیگنڈے کو اپنی بقا اور پالیسیوں کے دفاع کا سب سے بڑا ہتھیار سمجھ رہے ہیں۔

بین الاقوامی برداری کی طرف سے تنہائی اور مالی پابندیوں کے شکار اس نظام کے اندر پروپیگنڈا سیلز کی تشکیل اور ان پر کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اندرونی و بیرونی بیانیے کو اپنے حق میں موڑنے کے لیے کتنے کوشاں ہیں، چاہے اس کے لیے عوام کے بنیادی حقوق اور پیٹ پر ہی کیوں نہ لات مارنی پڑے۔

یہ لیکس محض چند دستاویزات کا باہر آنا نہیں ہے بلکہ یہ طالبان حکومت کے اندرونی تضادات اور ترجیحات کا پوسٹ مارٹم ہے۔

جہاں ریاست کو معاشی بحران، بے روزگاری اور فاقہ کشی کا سامنا ہو، وہاں پروپیگنڈا مشینوں کو پروان چڑھانے کے لیے لاکھوں ڈالر جھونکنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت کو عوام کی فلاح و بہبود سے زیادہ اپنی ساکھ بچانے کی فکر ہے۔

علامہ اقبال کا یہ شعر اس موجودہ صورتحال پر بالکل صادق آتا ہے جہاں وہ مادی وسائل اور شیطانی ہتھکنڈوں کے مقابلے میں مومن کی پامردی کی بات کرتے ہیں۔ جھوٹ کے ان پُرتکلف اور مہنگے میناروں کے باوجود سچ زیادہ دیر چھپ نہیں سکتا اور بھوکے عوام کی آہیں اس مصنوعی پروپیگنڈا نیٹ ورک کو جلد یا بدیر اندر سے کھوکھلا کر کے رکھ دیں گی۔

Related Articles