پاکستانی اے لیول طلبہ کے لیے کیمبرج نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے ریاضی کے لیک شدہ پرچے سے متعلق اپنا سابقہ مؤقف واپس لے لیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق نئی ہدایات میں کہا گیا ہے کہ اے لیول ریاضی کے نتائج اب طلبہ کے اصل امتحانی جوابات کی بنیاد پر جاری کیے جائیں گے، اس فیصلے نے ہزاروں طلبہ اور والدین کے خدشات کسی حد تک کم کر دیے ہیں، جو گزشتہ کئی ہفتوں سے نتائج کے بارے میں بے یقینی کا شکار تھے۔
کیمبرج کے مطابق تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ پاکستان میں لیک ہونے والے ریاضی کے پرچے تک رسائی محدود رہی اور اس کے باعث مجموعی امتحانی نتائج متاثر نہیں ہوئے۔
اسی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستانی امیدواروں کو ان کے اصل امتحانی جوابات کے مطابق گریڈ دیے جائیں گے۔
مزید یہ کہ جو طلبہ لیک شدہ پرچے سے متاثر ہوئے، انہیں نومبر 2026 میں دوبارہ امتحان دینے کا موقع بھی فراہم کیا جائے گا ، اس ری ٹیک امتحان کے لیے امیدواروں سے کوئی اضافی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔
دوسری جانب کیمبرج نے واضح کیا ہے کہ اے ایس کمپیوٹر سائنس کے نتائج پہلے سے طے شدہ تخمینہ شدہ نمبروں کی بنیاد پر ہی جاری کیے جائیں گے۔
ادارے کے مطابق کمپیوٹر سائنس کا پرچہ امتحان سے پہلے بڑے پیمانے پر گردش میں آ گیا تھا، جس کی وجہ سے اصل امتحانی نتائج پر انحصار کرنا ممکن نہیں رہا، اسی لیے امیدواروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے تخمینہ شدہ نمبروں کا نظام برقرار رکھا گیا ہے۔
کیمبرج کا کہنا ہے کہ تخمینہ شدہ نمبروں کا مقصد دیانت داری سے امتحان دینے والے طلبہ کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے تاکہ کسی بھی غیر قانونی طریقے سے فائدہ اٹھانے والے امیدوار کو ناجائز برتری حاصل نہ ہو۔
ادارے کے مطابق یہ نظام تحقیقی بنیادوں پر تیار کیا گیا ہے اور دنیا بھر کی جامعات بھی اس طریقہ کار کو تسلیم کرتی ہیں۔
کیمبرج انتظامیہ نے مزید اعلان کیا ہے کہ نومبر 2026 میں دوبارہ امتحان دینے والے امیدواروں سے کوئی اضافی فیس نہیں لی جائے گی۔ وہ طلبہ جن کے نتائج تخمینہ شدہ نمبروں کی بنیاد پر جاری ہوں گے، وہ بھی بلامعاوضہ دوبارہ امتحان دے سکیں گے۔
امتحان مکمل ہونے کے بعد امیدواروں کو دونوں نتائج میں سے بہتر نتیجہ منتخب کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا، جس سے انہیں مزید سہولت اور اعتماد ملے گا۔
کیمبرج کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے متعدد جعلی لیک شدہ پرچوں نے طلبہ، والدین اور تعلیمی اداروں کو شدید پریشانی میں مبتلا کیا، ادارے نے ایک بار پھر شفاف امتحانی نظام برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام فیصلے طلبہ کے مفادات اور انصاف کے اصولوں کو مدنظر رکھ کر کیے گئے ہیں۔