جاپان نے غیر ملکی ہنر مند کارکنوں کے لیے ‘ٹائپ 2 مخصوص ہنر مند ورکر ویزا’ کے تحت 5 سالہ قیام کی مدت متعارف کرانے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ اس اقدام سے اہل کارکنوں کے لیے طویل مدتی قانونی استحکام اور مستقل رہائش حاصل کرنے کی راہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ آسان ہونے کی توقع ہے۔
5 سالہ ویزا کی تجویز، عوامی رائے طلب
جاپان کی امیگریشن سروسز ایجنسی نے منگل کو ایک مسودہ وزارتی آرڈیننس جاری کیا ہے جس کے تحت ‘ٹائپ 2 مخصوص ہنر مند ورکر ویزا’ رکھنے والے غیر ملکی کارکنوں کو 5 سال تک قیام کی اجازت دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس مسودے پر عوامی آرا حاصل کی جائیں گی، جس کے بعد تمام قانونی مراحل مکمل ہونے پر اس نئے نظام کو اگلے سال جنوری کے اوائل سے باقاعدہ نافذ کرنے کا منصوبہ ہے۔
موجودہ نظام میں کتنی مدت کا ویزا دیا جاتا ہے؟
اس وقت نافذ قوانین کے مطابق اس ویزا کیٹیگری کے تحت غیر ملکی کارکنوں کو ان کی ملازمت، روزگار کے تسلسل اور دیگر متعلقہ عوامل کی بنیاد پر 6 ماہ، 1 سال، 2 سال یا زیادہ سے زیادہ 3 سال تک قیام کی اجازت دی جاتی ہے۔
زیادہ مدت کے ویزے کے حصول کے لیے درخواست گزار کو کئی سخت شرائط پوری کرنا پڑتی ہیں، جن میں ملازمت کا تسلسل، اچھا ورک ریکارڈ، بروقت ٹیکس کی ادائیگی اور دیگر قانونی تقاضے شامل ہیں۔
نئی پالیسی سے کیا تبدیلی آئے گی؟
مجوزہ پالیسی کے تحت اہل غیر ملکی کارکنوں کو پہلی بار 5 سالہ قیام کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ اس سے ویزے کی تجدید کی ضرورت کم ہوگی اور طویل المدتی منصوبہ بندی آسان بن سکے گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کی مکمل شرائط اور طریقہ کار کو حتمی شکل دینا ابھی باقی ہے اور جلد اس حوالے سے مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔
نرسنگ کیئر ورکرز کے مساوی سہولت
جاپانی حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد مخصوص ہنر مند کارکنوں کے ویزا نظام کو ملک میں خدمات انجام دینے والے دیگر غیر ملکی پیشہ ور افراد، خصوصاً نرسنگ کیئر ورکرز، کے مساوی بنانا ہے۔
اس وقت نرسنگ کیئر کے شعبے میں کام کرنے والے اہل غیر ملکی کارکنوں کو بھی زیادہ سے زیادہ 5 سال تک قیام کی اجازت حاصل ہوتی ہے، جبکہ نئی تجویز کے بعد دیگر مخصوص ہنر مند کارکن بھی اسی مدت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
مستقل رہائش کے خواہشمند افراد کو کیا فائدہ ہوگا؟
جاپان میں مستقل رہائش کے لیے درخواست دینے والے غیر ملکیوں کے لیے یہ قانونی شرط موجود ہے کہ وہ اپنی موجودہ ویزا کیٹیگری کے تحت دستیاب زیادہ سے زیادہ مدت کے ویزے کے حامل ہوں۔
ماضی میں چونکہ اس ویزا کے تحت زیادہ سے زیادہ 3 سال کی مدت دستیاب تھی، اس لیے کئی کارکنوں کو مستقل رہائش کے لیے اضافی قانونی مراحل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ مجوزہ 5 سالہ ویزا اس رکاوٹ کو بڑی حد تک کم کر سکتا ہے اور اہل افراد کے لیے مستقل رہائش کی راہ مزید ہموار ہو سکتی ہے۔
جاپان گزشتہ کئی برسوں سے عمر رسیدہ آبادی، کم شرح پیدائش اور افرادی قوت کی کمی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔
ان مسائل کے باعث حکومت نے مختلف شعبوں، خصوصاً تعمیرات، مینوفیکچرنگ، زرعی، خوراک، نگہداشت اور صنعتی خدمات میں غیر ملکی ہنر مند کارکنوں کی تعداد بڑھانے کے لیے متعدد اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔
‘ٹائپ 2 مخصوص ہنر مند ورکر ویزا’ بھی انہی اصلاحات کا حصہ ہے، جس کا مقصد ایسے غیر ملکی کارکنوں کو طویل عرصے تک جاپانی معیشت کا حصہ بنانا ہے جو مطلوبہ مہارت رکھتے ہیں اور ملکی ترقی میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
جاپان کی یہ تجویز صرف ویزا کی مدت بڑھانے کا اقدام نہیں بلکہ مستقبل کی افرادی قوت سے متعلق حکومتی حکمت عملی کا اہم حصہ بھی ہے۔ دنیا کی تیزی سے عمر رسیدہ ہوتی آبادی رکھنے والے ممالک میں شامل جاپان کو صنعتی اور خدمات کے مختلف شعبوں میں مسلسل ہنر مند کارکنوں کی ضرورت ہے، جسے صرف مقامی افرادی قوت سے پورا کرنا ممکن نہیں رہا۔
5 سالہ ویزا متعارف ہونے سے غیر ملکی کارکنوں کو روزگار اور رہائش کے حوالے سے زیادہ استحکام حاصل ہوگا، جبکہ آجر اداروں کو بھی تربیت یافتہ ملازمین کو طویل مدت تک برقرار رکھنے میں آسانی ہوگی۔
اس کے ساتھ ساتھ مستقل رہائش کے خواہشمند اہل کارکنوں کے لیے قانونی تقاضے نسبتاً آسان ہونے سے جاپان ہنر مند افرادی قوت کے لیے مزید پرکشش منزل بن سکتا ہے۔
اگرچہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ تمام شرائط ابھی حتمی نہیں ہوئیں، تاہم پالیسی کا مجموعی رخ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جاپان مستقبل میں امیگریشن نظام کو زیادہ عملی، مستحکم اور معیشت کی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔