صیہونی میڈیا کے جھوٹ کا منہ توڑ جواب : عمران نیازی کی قید تنہائی اور بیماری کا ڈرامہ دستاویزی ثبوتوں کیساتھ بے نقاب!

صیہونی میڈیا کے جھوٹ کا منہ توڑ جواب : عمران نیازی کی قید تنہائی اور بیماری کا ڈرامہ دستاویزی ثبوتوں کیساتھ بے نقاب!

عمران نیازی کی قیدِ تنہائی اور بیماری سے متعلق سامنے آنے والے صیہونی میڈیا کے جھوٹے بے بنیاد دعووں کا پردہ فاش ہوگیا ، دعوؤں کے برعکس پیش کیے جانے والے دستاویزی شواہد نےصیہونی میڈیا کی بولتی بند کردی۔

صیہونی میڈیا پر عمران نیازی کی نام نہاد قیدِ تنہائی، علاج سے محرومی اور “بلیک آؤٹ” کا جو زہریلا پروپیگنڈا چلایا جا رہا تھا، اسے حکومتِ پاکستان نے ٹھوس دستاویزی ثبوتوں اور سرکاری جیل ریکارڈز کے ساتھ مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔

عمران نیازی کا این آر او اور ڈیل حاصل کرنے کا نیا ڈرامہ ، حقائق کیا ہیں ؟

یہ تمام تر عالمی سنسنی خیزی صرف اور صرف این آر او اور ڈیل حاصل کرنے کا ایک نیا ڈرامہ ہے، جس کی حقیقت درج ذیل حقائق سے ظاہر ہوتی ہے جوکہ درج ذیل ہے ۔

 عمران نیازی کو کسی تاریک کوٹھڑی میں نہیں رکھا گیا بلکہ 30 سے 35 قیدیوں کے لیے مخصوص 7 سیلز پر مشتمل ایک پورا بلاک فراہم کیا گیا ہے، جس میں 57×14 فٹ کی راہداری، 35×37 فٹ کا ذاتی لان، ایکسرسائز ایکوپمنٹ، پلنگ اور دیگر سہولیات شامل ہیں۔ کھانا بھی ان کی اپنی پسند کا (گوشت، چکن، ڈرائی فروٹس، اور منرل واٹر) فراہم کیا جا رہا ہے۔

“قید تنہائی” کے جھوٹے بیانیے کے برعکس، ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ اب تک 198 ملاقاتوں میں 900 سے زائد افراد (فیملی، وکلاء اور سیاسی رہنما) ان سے مل چکے ہیں، اپنی اہلیہ سے ان کی تازہ ترین ملاقات 4 اگست 2026 کو ہوئی یہ وہی دن تھا جب ان کے بیٹے CNN پر بیٹھ کر بلیک آؤٹ کا مظلومانہ ڈرامہ رچا رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق عمران نیازی کے جیل ڈاکٹر کے دن میں 3 بار معائنے کے ساتھ ساتھ پمز، شفاء انٹرنیشنل، شوکت خانم اور الشفاء آئی ٹرسٹ کے ماہرین پر مشتمل بورڈز کے 30 سے زائد معائنہ جات ہو چکے ہیں، آنکھوں کے مرض کے علاج کے لیے 5 جدید انٹرا وٹریل (Anti-VEGF) انجیکشنز دیے گئے، اور جولائی 2026 کے معائنے کے مطابق ان کی صحت مکمل طور پر مستحکم ہے۔

اس کے علاوہ عمران نیازی کے بیٹے ویزا نہ ملنے کا جھوٹا پروپیگنڈا بھی کیا جارہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نادرا آرڈیننس 2000 (سیکشن 12) کے تحت NICOP ہولڈر کے لیے پاکستان آنے کے لیے ویزے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہوتی، صرف انتظامی عمل کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

واٹس ایپ اور لینڈ لائن کالز کا باقاعدہ لاگ موجود ہے جس کے مطابق (آخری رابطہ 21 مارچ 2026 کو ہوا) ، دنیا کا کوئی بھی ملک جیل کو غیر مشروط پریس کانفرنس یا سیاسی کمانڈ سینٹر بنانے کی اجازت نہیں دیتا، قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی اور جیل سے سیاسی پیغامات بھیجنے پر ہی ضوابط لاگو کیے جاتے ہیں۔

عمران نیازی کی بیماری اور مظلومیت کا عالمی واویلا صرف اس لیے مچایا جا رہا ہے تاکہ حکومت پر بین الاقوامی دباؤ ڈال کر کسی طرح این آر او يا ڈیل حاصل کی جا سکے لیکن قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور کسی کو علیحدہ قانونی رعایت نہیں دی جائے گی۔

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عمران خان کی قید تنہائی اور بیماری سے متعلق پراپیگنڈہ مسترد کردیا

دوسری جانب سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عمران نیازی کی بیماری اور قید تنہائی کے صیہونی میڈیا کے پراپیگنڈے  کی تردید کی ہے ۔

سپرنٹنٹنڈنٹ جیل  نے عمران نیازی کی قید سے متعلق اہم رپورٹ میں ان کے ساتھ کسی بھی قسم کے امتیازی یا غیر مساوی سلوک کو مسترد کیا  ہے، رپورٹ میں جیل حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عمران خان کو قید تنہائی میں نہیں رکھا گیا اور انہیں جیل قوانین کے مطابق سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

یہ رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کروائی گئی ہے ، جس میں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے مطابق جیلوں میں قید تنہائی کا نظام اب رائج نہیں ہے اور نہ ہی عدالتوں کی جانب سے ایسی سزا دی جاتی ہے، عمران خان سمیت کسی بھی قیدی کو قید تنہائی میں نہیں رکھا گیا، جبکہ وہ عدالت کی جانب سے دی گئی سزا کے مطابق اپنی قید پوری کر رہے ہیں۔

اضافی سہولتوں کی وضاحت

رپورٹ کے مطابق عمران خان کے ساتھ دیگر قیدیوں کی طرح قانونی اصولوں کے تحت برتاؤ کیا جا رہا ہے اور ان کے ساتھ کوئی امتیازی رویہ اختیار نہیں کیا گیا، جیل حکام نے بتایا کہ بہتر کلاس قیدی ہونے کی وجہ سے عمران خان کو کچھ اضافی سہولیات حاصل ہیں، جبکہ سابق وزیراعظم اور سیاسی رہنما ہونے کے باعث ان کی سکیورٹی کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

سپرنٹنڈنٹ جیل نے رپورٹ میں بتایا  ہے کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر عام قیدیوں کو عمران خان کے بلاک تک رسائی حاصل نہیں ہے،رپورٹ کے مطابق عمران خان سات سیلوں پر مشتمل کمپاؤنڈ میں دن کے اوقات میں آزادانہ نقل و حرکت کر سکتے ہیں جبکہ رات کے مخصوص اوقات میں اپنے سیل میں رہتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے  کہ عمران خان کی صحت کی نگرانی کے لیے جیل ڈاکٹر روزانہ تین مرتبہ طبی معائنہ کرتے ہیں،جیل حکام کے مطابق طبی معائنے کے دوران بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن، آکسیجن لیول اور دیگر صحت سے متعلق امور کا جائزہ لیا جاتا ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر اضافی طبی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ عمران نیازی  کے لیے روزانہ تین وقت کا کھانا ان کے پسندیدہ مینو کے مطابق تیار کیا جاتا ہے، جبکہ جیل افسران اور عملہ ان کی ضروریات سے متعلق مسلسل رابطے میں رہتا ہے،جیل حکام نے بتایا کہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ معمول کے مطابق اور ضرورت پڑنے پر خصوصی ملاقات بھی کرتے ہیں۔

ان دستاویزی شواہد اور سپرٹنٹنڈنٹ جیل کے بیان نے صیہونی میڈٰیا کے تمام دعوؤں کی حقیقت واضح کر دی، یوں نیازی کی قیدِ تنہائی، علاج سے محرومی اور بلیک آؤٹ کا بیانیہ اپنی موت آپ مرچکاہے ۔

editor

Related Articles