پاکستان کے علاقے باڑہ سے تعلق رکھنے والے ظریف خان کی زندگی محنت، مشکلات اور انسان دوستی کی ایک ایسی داستان ہے جس نے ہزاروں لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی۔
ضریف خان 1907 میں باڑہ سے امریکا منتقل ہوئے اور ریاست وائیومنگ کے شہر شیرڈن میں سکونت اختیار کی۔ امریکا پہنچنے کے بعد انہوں نے برگرز اور میکسیکن کھانے ’تمالے‘ فروخت کرنے کا کام شروع کیا۔ ان کا کھانا مقامی لوگوں میں اس قدر مقبول ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ شیرڈن کے معروف کاروباری افراد میں شمار ہونے لگے۔
تاہم ان کی زندگی میں ایک بڑا مشکل وقت اس وقت آیا جب 1926 میں امریکی امیگریشن قوانین اور ایشیائی تارکین وطن سے متعلق عدالتی فیصلوں کے باعث ان کی امریکی شہریت منسوخ کردی گئی۔
شہریت سے محرومی کے باوجود ظریف خان نے ہمت نہیں ہاری اور محنت کا سلسلہ جاری رکھا۔ کئی برس کی جدوجہد کے بعد 1954 میں انہیں دوبارہ امریکی شہریت حاصل ہوگئی۔
ظریف خان صرف اپنے کاروبار کی وجہ سے مشہور نہیں تھے بلکہ اپنی دریا دلی کے باعث بھی مقامی لوگوں میں بے حد مقبول تھے۔ وہ غریبوں، ضرورت مندوں اور نسلی تعصب کا سامنا کرنے والے افراد کو مفت کھانا فراہم کرتے اور ضرورت پڑنے پر مالی مدد بھی کرتے تھے۔
1964 میں ظریف خان اپنے آبائی علاقے باڑہ واپس آئے، جہاں خاندانی اور جائیداد کے تنازع کے دوران ان کے ایک رشتہ دار نے انہیں قتل کردیا۔ان کی موت کی خبر جب امریکا پہنچی تو شیرڈن کے شہری غم میں ڈوب گئے۔ مقامی لوگوں نے ظریف خان کی انسان دوستی اور خدمات کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور شہر میں ان کا مجسمہ نصب کیا گیا۔
آج بھی شیرڈن میں موجود یہ مجسمہ ظریف خان کی زندگی اور ان کے انسان دوست کردار کی یاد دلاتا ہے۔ ایک ایسے شخص کی یاد، جس نے پردیس میں محنت کی، مشکلات کا سامنا کیا اور اپنی سخاوت سے مختلف طبقوں کے لوگوں کے دل جیت لیے۔
معروف امریکی جریدے ’دی نیویارکر‘ نے بھی 2016 میں ضریف خان کی زندگی پر ’سٹیزن خان‘ کے عنوان سے تفصیلی مضمون شائع کیا، جس کے بعد ان کی کہانی کو عالمی سطح پر مزید توجہ حاصل ہوئی۔