سابق رکن سندھ اسمبلی غلام رسول انڑ نے اپنی سابق اہلیہ کے خلاف مبینہ دھوکا دہی، بلیک میلنگ اور سنگین دھمکیوں کے الزامات پر قانونی کارروائی کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت میں دائر درخواست میں غلام رسول انڑ نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی ایک خاتون سے سوشل میڈیا کے ذریعے گفتگو شروع ہوئی جس کے بعد انہوں نے خاتون کو براہِ راست دیکھے بغیر 23 فروری 2026 کو ویڈیو کال کے ذریعے نکاح کرلیا۔
درخواست گزار کے وکیل عامر نواز وڑائچ نے عدالت کو بتایا کہ نکاح سے قبل جب غلام رسول انڑ خاتون سے چہرہ دکھانے کا مطالبہ کرتے تو انہیں مبینہ طور پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر بھیجی جاتیں۔ وکیل کے مطابق نکاح کے دوران بھی خاتون نے چہرہ ڈھانپ رکھا تھا۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ نکاح کے بعد جب سابق رکن اسمبلی نے خاتون کو دیکھا تو وہ پہلے دکھائی جانے والی تصاویر سے مختلف تھیں جس کے بعد انہوں نے خاتون سے علیحدگی اختیار کرلی۔
وکیل کے مطابق مبینہ طور پر دوری اختیار کرنے کے بعد خاتون نے سوشل میڈیا پر غلام رسول انڑ کی موت سے متعلق جعلی تصاویر اور پوسٹس شیئر کیں۔ درخواست گزار نے 9 اگست کو خاتون کو طلاق دے دی۔
درخواست میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ طلاق کے بعد سابق اہلیہ کی جانب سے مبینہ طور پر کروڑوں روپے کا مطالبہ کیا جارہا ہے جبکہ انہیں بلیک میل کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں۔
وکیل کے مطابق معاملے سے متعلق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں بھی شکایت جمع کرائی جاچکی ہے۔
عدالت نے درخواست پر ایس پی کمپلین سیل، ایس ایچ او ڈیفنس اور سابق اہلیہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پولیس سے 17 اگست تک رپورٹ طلب کرلی۔