خیبرپختونخوا میں خارجی دہشت گردی کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ کی سیاسی سرگرمیوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں،ایسے میں جب صوبہ دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے، جبکہ اس کا وزیراعلیٰ کنٹینر پر موجود ہے۔
صوبے میں دہشت گردی
خیبرپختونخوا کو دہشت گردی کے ایک سنگین چیلنج کا سامنا ہے،مختلف علاقوں میں سکیورٹی صورتحال کے باعث امن و امان کا معاملہ مسلسل اہمیت اختیار کیے ہوئے ہے۔
وزیراعلیٰ کنٹینر پر
اس صورتحال کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا لانگ مارچ میں کنٹینر پر موجود ہونا اس بات کی عکاسی ہے کہ سہیل آفریدی کو اپنے صوبے اور لوگوں کی کوئی فکر نہیں،عوامی حلقوں کی طرف سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ صوبے میں امن و امان کا مسئلہ موجود ہونے کے باوجود صوبائی قیادت کی ترجیحات کیا ہونی چاہئیں۔
امن و امان کا معاملہ
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات، شہریوں کے تحفظ اور امن و امان کی بحالی کو بنیادی ذمہ داری قرار دیا جاتا ہے موجودہ صورتحال میں صوبائی حکومت کی توجہ صوبے پر ہونی چاہیے تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔
سیاسی سرگرمیوں پر سوالات
خیبرپختونخوا کی صورتحال کے ساتھ لانگ مارچ کی سیاسی سرگرمیوں نے صوبائی حکومت کے کردار کو بھی زیر بحث لا دیا ہے ایک طرف دہشت گردی کا چیلنج موجود ہے تو دوسری جانب وزیراعلیٰ کی سیاسی سرگرمیاں توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔
ترجیحات کا سوال
صوبے میں جاری سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں یہ سوال اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ صوبائی قیادت کی ترجیحات کیا ہیں اور دہشت گردی کے مقابلے، امن و امان کی بحالی اور عوام کے تحفظ کے لیے حکومت کس سمت میں آگے بڑھتی ہے۔