وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نہ نئے صوبوں کے معاملے پر اکیلے فیصلہ کرسکتی ہے اور نہ ہی اسے اکیلے مسترد کرسکتی ہے، نجانے پیپلز پارٹی کو نئے صوبوں کی بات سے کیا خوف ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ قومی نوعیت کا ہے، اس پر بات چیت ہونی چاہیے اور کسی ایک جماعت کو اس حوالے سے حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو حکومت میں رہنے کا تسلسل کسی بھی دوسری جماعت سے زیادہ ملا ہے اس لیے نئے صوبوں کے معاملے پر بھی اسے یہ کہنا چاہیے کہ اس مسئلے پر بات چیت ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب نئے صوبے کی قرارداد سامنے آئی تھی تو اس وقت پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف تھے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ نے سندھ کے حوالے سے جاری بحث پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے معاملے پر ایسا بیانیہ بنایا جا رہا ہے جیسے ملک تقسیم ہونے جا رہا ہو۔ سوال یہ ہے کہ یہ کسی کی ذاتی اجارہ داری کا معاملہ ہے یا عوامی خدمت کا۔
طلال چوہدری نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی پاکستان مسلم لیگ (ن) اور وزیراعظم شہباز شریف کے وزیر داخلہ ہیں اور وہ ہر معاملے میں وزیراعظم کی پالیسی کو فالو کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کے قیام کی بات کافی عرصے سے ہو رہی تھی، اب وزیر داخلہ محسن نقوی نے نئے صوبوں کی بات کی تو اس پر طوفان کھڑا کردیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ اچھی بات بھی کریں تو بعض لوگ اس میں بھی برائی تلاش کرنا شروع کردیتے ہیں۔ شاید کچھ لوگوں کی توقعات وزیر داخلہ سے پوری نہیں ہوتیں اسی لیے وہ تنقید کرتے ہیں۔
بانی پی ٹی آئی سے متعلق سوال پر طلال چوہدری نے کہا کہ تحریک انصاف کی جانب سے درخواستیں کی گئی تھیں کہ ایک شخص بیمار ہے اور اس کا علاج کیا جائے اب اگر ایک شخص تندرست نکلا ہے تو اس پر کوئی خوش نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ تحریک انصاف سے پوچھا جانا چاہیے کہ توہینِ عدالت کی درخواست میں وزیر داخلہ کا نام کیوں شامل کیا گیا؟
انہوں نے کہا کہ کسی صحت مند شخص کو اسپتال منتقل کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اڈیالہ جیل میں تقریباً چار ہزار قیدی ہیں اگر سب کی خواہش یہی ہو تو کیا سب کو اسپتال منتقل کردیا جائے؟
پی ٹی آئی کے احتجاج کے حوالے سے وزیر مملکت برائے داخلہ نے واضح کیا کہ اگر کوئی حملہ آور ہوگا تو اس سے ڈیل یا ڈھیل نہیں ہوگی بلکہ سختی سے نمٹا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یلغار کی گئی تو 26 نومبر سے بھی زیادہ سخت اقدامات کیے جائیں گے اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے کارروائی ہوگی۔