پاکستان کے احمد ظفر حیات نے سنگاپور اوپن سینیئر امیچر گالف چیمپیئن شپ میں شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے ایونٹ کا ’اوور آل ٹائٹل‘ اپنے نام کر لیا ہے۔
سنگاپور کے بین الاقوامی معیار کے گالف کورس پر پاکستانی کھلاڑیوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ اس اعلیٰ سطح کے مقابلے میں احمد ظفر حیات شروع سے ہی پر اعتماد دکھائی دیے۔
انہوں نے مقررہ 3 راؤنڈز کے اختتام پر مجموعی طور پر 223 کا بہترین سکور ترتیب دیا، جس کی بدولت وہ پہلی پوزیشن کے حق دار ٹھہرے۔ ان کی اس کامیابی نے عالمی سطح پر پاکستان کے لیے ایک نیا اعزاز حاصل کیا ہے۔
دیگر پاکستانی کھلاڑیوں کی نمایاں پوزیشنز
اس بین الاقوامی ایونٹ میں صرف احمد ظفر حیات ہی نہیں بلکہ دیگر پاکستانی گالفرز نے بھی اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلایا۔
بریگیڈیئر (ر) عمر اعجاز نے انتہائی نپی تلی اور محتاط گیم کھیلی۔ وہ 3 راؤنڈز کے اختتام پر 229 سکور کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔
اسی چیمپیئن شپ میں شریک ایک اور پاکستانی کھلاڑی محمد احمد منان نے بھی سخت مقابلوں کا ڈٹ کر سامنا کیا اور ان کا 3 راؤنڈز میں مجموعی سکور 250 رہا۔
سنگاپور اوپن سینیئر امیچر گالف چیمپیئن شپ کا شمار ایشیائی خطے کے معتبر ترین گالف ٹورنامنٹس میں ہوتا ہے، جہاں مختلف ممالک سے تجربہ کار اور صفِ اول کے گالفرز حصہ لیتے ہیں۔
پاکستان میں گالف کا کھیل اگرچہ کرکٹ یا دیگر روایتی کھیلوں جیسی وسیع عوامی مقبولیت نہیں رکھتا، تاہم سینیئر اور امیچر سطح پر پاکستانی کھلاڑی تواتر کے ساتھ غیر ملکی ایونٹس میں ملکی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔
احمد ظفر حیات کا یہ ٹائٹل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نامساعد حالات اور محدود وسائل کے باوجود پاکستان میں گالف کے اعلیٰ پائے کے ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔
مستقبل کے امکانات اور کھیل کے بدلتے رجحانات
اس شاندار فتح کا گہرا جائزہ لیا جائے تو یہ محض ایک ٹورنامنٹ کی جیت نہیں بلکہ پاکستانی گالف کی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔
غیر ملکی اور نامانوس گرینز پر احمد ظفر حیات اور عمر اعجاز کی یہ کارکردگی اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ اگر ملک میں گالف کے انفراسٹرکچر پر مزید توجہ دی جائے اور تسلسل کے ساتھ سہولیات فراہم کی جائیں، تو بین الاقوامی سطح پر بے شمار کامیابیاں سمیٹی جا سکتی ہیں۔
یہ فتح بین الاقوامی گالف کے منظر نامے پر پاکستانی کھلاڑیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو ظاہر کرتی ہے، جو یقیناً نوجوان اور ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کے لیے ایک مضبوط ترغیب ثابت ہو گی اور وہ اس کھیل کی طرف مزید راغب ہوں گے۔