بھارتی معاشرہ اس قدر اخلاقی پستی کا شکار ہو چکا ہے کہ ریاست اتر پردیش کے شہر لکھنؤ کے علاقے موہن لال گنج میں گھر کے باہر شراب نوشی سے روکنے پر 2 ملزمان نے 70 سالہ بزرگ خاتون کا مبینہ طور پر گینگ ریپ کر کے اسے بے دردی سے قتل کر دیا ہے۔
پولیس نے سی سی ٹی وی اور تکنیکی شواہد کی مدد سے دونوں سفاک ملزمان کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب 2 افراد خاتون کی رہائش گاہ کے قریب بیٹھ کر شراب پی رہے تھے۔
بزرگ خاتون نے جب انہیں اپنے گھر کے پاس اس عمل سے روکا اور وہاں سے جانے کا کہا، تو ملزمان مشتعل ہو گئے اور ان کے درمیان تلخ کلامی شروع ہو گئی۔
A 70-year-old woman was allegedly gang-raped and murdered by two men after she objected to them consuming alcohol near her house in the Mohanlalganj area, police said on Friday. The accused, identified as Rajesh alias Guddu (30) and Hariram Rawat (34), were arrested following a… pic.twitter.com/Ej45utM6UD
ملزمان نے پہلے خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر ان پر وحشیانہ حملہ کر دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملے کے دوران ضعیف خاتون لوہے کی چارپائی کے پائے سے زور دار طریقے سے ٹکرائیں، جس سے انہیں شدید اور جان لیوا چوٹیں آئیں۔
جرم چھپانے کی کوشش اور گرفتاری
واردات کے بعد ملزمان نے اپنے گھناؤنے جرم کو چھپانے کے لیے خاتون کی لاش کو گھر کے پچھواڑے ایک تاریک حصے میں منتقل کر دیا۔
مقتولہ کے اہل خانہ کی جانب سے موہن لال گنج پولیس اسٹیشن میں واقعے کی ایف آئی آر درج کروائی گئی۔ پولیس کے تفتیشی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیج، تکنیکی شواہد اور مقامی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر دونوں ملزمان کو شناخت کر کے گرفتار کر لیا۔ ملزمان کی شناخت 30 سالہ راجیش عرف گڈو اور 34 سالہ ہری رام راوت کے نام سے ہوئی ہے۔
بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم، بالخصوص جنسی زیادتی اور قتل کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اتر پردیش، جو کہ ملک کی سب سے گنجان آباد ریاست ہے، وہاں امن و امان کی صورتحال اور خواتین کے تحفظ پر طویل عرصے سے سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔
حالیہ برسوں میں ایسے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں جہاں قانون کی کمزوری اور سماجی بے حسی کے باعث خواتین کو ان کے بنیادی حقوق کے دفاع کی قیمت اپنی جان دے کر چکانا پڑی ہے۔
معاشرتی بے حسی اور اقدار کا زوال
کسی بھی معاشرے کی تہذیب کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہاں بزرگوں اور خواتین کو کتنا محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
ایک 70 سالہ ضعیف خاتون کو محض اس لیے درندگی کا نشانہ بنا کر مار ڈالنا کہ اس نے اپنے گھر کے پاس ایک غیر اخلاقی فعل ’شراب نوشی‘ کو روکا تھا، اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ بھارتی معاشرے میں اخلاقی اور سماجی اقدار کس حد تک زوال پذیر ہو چکی ہیں۔
یہ واقعہ محض قانون کی خلاف ورزی نہیں بلکہ ایک گہرے سماجی بگاڑ کی علامت ہے، جہاں عوامی مقامات پر نشہ آور اشیاء کا بے دریغ استعمال انسانوں کو درندوں میں تبدیل کر رہا ہے۔
جب تک معاشرے میں اخلاقی تربیت اور قانون کی فوری اور سخت عملداری کو یقینی نہیں بنایا جاتا، ایسے دلخراش واقعات کی روک تھام ناممکن نظر آتی ہے۔