پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے احتجاج کے پیشِ نظر بند کیا گیا اٹک پل کئی روز بعد ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ رکاوٹیں ہٹنے سے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے درمیان زمینی رابطہ اور معمول کی آمدورفت مکمل طور پر بحال ہو گئی ہے۔
گزشتہ کئی روز سے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی سرحد پر چھائی ہوئی غیر یقینی کی فضا بالآخر چھٹ گئی ہے۔ تاریخی اٹک پل پر لگائے گئے کنٹینرز اور دیگر بھاری رکاوٹیں ہٹا دی گئی ہیں، جس کے بعد دونوں صوبوں کے درمیان مسافر گاڑیوں اور تجارتی ٹریفک کی روانی معمول پر آ گئی ہے۔
یہ پل دونوں صوبوں کے مابین تجارت اور روزمرہ کی آمدورفت کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے، جس کی بحالی پر عوام نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
عوام کی مشکلات اور اذیت ناک سفر
واضح رہے کہ حکومت نے 23 ستمبر کو پاکستان تحریک انصاف کے مجوزہ لانگ مارچ اور ممکنہ احتجاج کے پیشِ نظر سکیورٹی اقدامات کے تحت اس اہم شاہراہ کو سیل کر دیا تھا۔
اس بندش کا سب سے زیادہ خمیازہ عام شہریوں، مریضوں اور مال بردار گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو بھگتنا پڑا۔ متبادل اور کچے راستے اختیار کرنے کی وجہ سے لوگوں کو نہ صرف مالی نقصان اٹھانا پڑا، بلکہ کئی روز تک شدید ذہنی اذیت اور طویل سفری تھکاوٹ کا بھی سامنا رہا۔
سیکیورٹی کی صورتحال اور پولیس کی تعیناتی
اگرچہ پل کو ٹریفک کے لیے مکمل طور پر کلیئر کر دیا گیا ہے، لیکن انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی خدشات کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا گیا۔
پنجاب پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی بھاری نفری تاحال پل اور اس کے اطراف میں الرٹ کھڑی ہے۔ اس اقدام کا مقصد کسی بھی ناگہانی صورتحال سے فوری نمٹنا اور امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنا ہے۔
حالیہ برسوں میں سیاسی کشیدگی کے باعث اہم شاہراہوں، موٹرویز اور پلوں کی بندش ایک معمول بن چکی ہے۔ خاص طور پر خیبر پختونخوا سے پنجاب یا اسلام آباد کی جانب ہونے والے سیاسی مارچ کو روکنے کے لیے اٹک پل کو اکثر کنٹینرز لگا کر بند کر دیا جاتا ہے۔
اس روایتی طریقہ کار کی وجہ سے ہمیشہ وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی تناؤ میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ بین الصوبائی تجارت اور سپلائی چین بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
سپلائی چین ٹوٹنے سے معاشی سرگرمیوں کو جو دھچکا لگتا ہے، اس کا ازالہ کئی ماہ تک ممکن نہیں ہو پاتا۔ سیاسی مسائل کا حل کنٹینرز کی دیواریں کھڑی کرنے میں نہیں، بلکہ سیاسی تدبر اور مذاکرات کی میز پر تلاش کیا جانا چاہیے۔
جمہوری معاشروں میں احتجاج کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے ایسی ٹھوس انتظامی حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے جس سے نظامِ زندگی بھی مفلوج نہ ہو اور ریاست کے سیکیورٹی تقاضے بھی احسن طریقے سے پورے ہو سکیں۔ عام شہری کو سیاسی رسہ کشی کے نتیجے میں یرغمال بننے سے بچانا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔