عالمی توانائی منڈی میں بڑھتی قیمتوں اور سپلائی کے دباؤ کے دوران جی سیون ممالک نے بڑا ہنگامی فیصلہ کرلیا۔ چار ماہ میں 10 کروڑ بیرل تیل محفوظ ذخائر سے عالمی مارکیٹ میں لانے پر اتفاق ہوگیا۔
جی سیون رہنماؤں کے ورچوئل اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ تیل مربوط انداز میں مارکیٹ میں پہنچایا جائے گا۔ ابتدائی 20 روز میں ڈیزل کے ذخائر کا بڑا حصہ جاری کرنے کو ترجیح دی جائے گی۔
یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عالمی توانائی منڈی میں قیمتوں اور رسد کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ جی سیون ممالک نے ممکنہ بحران کے اثرات محدود کرنے کے لیے متعدد اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔
تیل ذخائر
اعلامیے کے مطابق جی سیون ممالک چار ماہ کے دوران مجموعی طور پر 10 کروڑ بیرل تیل مارکیٹ میں لائیں گے۔ ضرورت پڑنے پر مزید ڈیزل جاری کرنے کے امکان پر بھی غور کیا جائے گا۔
اس مقصد کے لیے عالمی توانائی ایجنسی کے فریم ورک کے تحت آئندہ دنوں میں اجلاس ہوگا۔ عالمی توانائی ایجنسی کو منصوبے پر عمل درآمد اور اس کے اثرات کی نگرانی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
ادارے کو 20 روز میں پیش رفت سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عالمی منڈی میں ایندھن کی دستیابی کو بہتر بنانا ہے۔
ڈیزل پر توجہ
جی سیون نے ابتدائی مرحلے میں ڈیزل کی فراہمی کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پہلے 20 دنوں کے دوران ڈیزل کے ذخائر کا بڑا حصہ مارکیٹ میں لایا جائے گا۔
جی سیون ممالک اور ان کے شراکت دار ضرورت کے مطابق مزید ڈیزل جاری کرنے پر بھی غور کریں گے۔ اس کے لیے عالمی توانائی ایجنسی کے ذریعے صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔
اعلامیے میں توانائی اور توانائی سے متعلق مصنوعات کی برآمد پر نئی پابندیاں عائد کرنے سے گریز کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔
ہرمز پر زور
جی سیون رہنماؤں نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے حقوق فوری طور پر مکمل طور پر بحال کرنے پر زور دیا ہے۔ رہنماؤں نے اس مقصد کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کرنے کا عزم ظاہر کیا۔و
اعلامیے میں تمام تیل پیدا کرنے والے ممالک سے بھی ایسے اقدامات سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جو عالمی منڈی میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں۔