انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (آئی سی سی) نے افغانستان کی صورتحال کے پیش نظر طالبان حکومت کے چار انتہائی سینئر رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری پر سے خفیہ کی شرط ختم کرتے ہوئے انہیں عام کر دیا ہے۔
دی ہیگ سے جاری بیان کے مطابق جن رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری پبلک کیے گئے ہیں ان میں افغان طالبان کے سپریم کمانڈر ہبت اللہ اخونزادہ، عبدالحکیم حقانی، حبیب اللہ آغا اور ندا محمد ندیم شامل ہیں۔
عدالت کی جانب سے ہبت اللہ اخونزادہ اور عبدالحکیم حقانی کے وارنٹ اٹھائیس جولائی دو ہزار پچیس کو جبکہ دیگر دو رہنماؤں کے وارنٹ نو ستمبر دو ہزار پچیس کو جاری کیے گئے تھے ۔
بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مطابق ان تمام طالبان رہنماؤں پر انسانیت کے خلاف سنگین جرائم، خاص طور پر صنفی اور سیاسی بنیادوں پر شہریوں پر ظلم و ستم ڈھانے کی بنیادی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
عالمی عدالت کے پراسیکیوٹرز کی جانب سے فراہم کردہ شواہد میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے افغان خواتین اور لڑکیوں کو ان کے بنیادی حقوق سے منظم طریقے سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ ان کی آزادانہ نقل و حرکت، تعلیم کے اصول، اظہارِ رائے اور خاندانی زندگی پر بھی سخت نوعیت کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
عدالتی دستاویزات میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ ان مبینہ جرائم کی شروعات پندرہ اگست دو ہزار اکیس سے ہوئی جو کم از کم بیس جنوری دو ہزار پچیس تک مسلسل جاری رہے۔
بین الاقوامی عدالت کا کہنا ہے کہ طالبان کی پالیسیوں کے نتیجے میں نہ صرف خواتین کو بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا بلکہ ان کی حمایت کرنے والے افراد کو بھی سیاسی مخالف قرار دے کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
عالمی عدالت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان وارنٹس کو عوامی سطح پر لانے کا بنیادی مقصد مستقبل میں ایسے مظالم کو روکنا اور بین الاقوامی برادری کا تعاون حاصل کرنا ہے۔