سفر کے دوران موبائل فون کی بیٹری ختم ہونے لگے تو گاڑی کی یو ایس بی پورٹ فوری طور پر مددگار ثابت ہوتی ہے، لیکن اکثر افراد نے محسوس کیا ہوگا کہ گاڑی میں فون چارج ہونے میں گھر کے مقابلے میں کہیں زیادہ وقت لگتا ہے۔
ماہرین کے مطابق موبائل فون کی چارجنگ اسپیڈ کا تعلق بنیادی طور پر وولٹیج، ایمپیئرز اور واٹس سے ہوتا ہے۔ چارجر جتنی زیادہ پاور فراہم کرے گا، فون اتنی ہی تیزی سے چارج ہوگا، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ فون بھی اتنی پاور کو سپورٹ کرتا ہو۔
گاڑی کی یو ایس بی پورٹ میں مسئلہ کیا ہے؟
بہت سی پرانی گاڑیوں میں یو ایس بی اے پورٹس محدود مقدار میں کرنٹ فراہم کرتی ہیں۔ بعض گاڑیوں میں یہ تقریباً 0.5 ایمپیئر تک ہوسکتا ہے، جو آج کے جدید اسمارٹ فونز کی تیز رفتار چارجنگ کے لیے کافی نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے فون گاڑی میں کافی دیر تک لگا رہنے کے باوجود بھی بیٹری مکمل طور پر چارج نہیں ہو پاتی۔
نئی گاڑیوں میں یو ایس بی سی پورٹس کا استعمال بڑھ رہا ہے، جو یو ایس بی اےکے مقابلے میں زیادہ پاور اور تیز چارجنگ فراہم کرسکتی ہیں۔ تاہم صرف یو ایس بی سی پورٹ موجود ہونا کافی نہیں۔ اگر گاڑی کی پورٹ محدود واٹ فراہم کرتی ہے تو فون پھر بھی تیزی سے چارج نہیں ہوگا۔
گھر کے مقابلے میں گاڑی میں چارجنگ سست کیوں؟
اصل فرق پاور سپلائی کا ہے۔ گھریلو چارجر عموماً فون کو زیادہ پاور فراہم کرتا ہے، جبکہ گاڑی کی عام یو ایس بی پورٹ محدود پاور دیتی ہے۔ اسی لیے بعض اوقات کئی گھنٹے سفر کرنے کے باوجود موبائل فون کی بیٹری توقع کے مطابق چارج نہیں ہو پاتی۔
تیز چارجنگ کا آسان حل
اگر گاڑی میں مناسب تیز رفتار یو ایس بی سی پورٹ موجود نہیں تو زیادہ پاور فراہم کرنے والا معیاری کار چارجر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس سے فون نسبتاً تیزی سے چارج ہوسکتا ہے، بشرطیکہ فون اور چارجر دونوں تیز چارجنگ کو سپورٹ کرتے ہوں۔ یعنی اگلی بار گاڑی میں موبائل سست چارج ہو تو ضروری نہیں کہ مسئلہ فون کی بیٹری میں ہو، ممکن ہے اصل وجہ گاڑی کی یو ایس بی پورٹ کی محدود پاور ہو۔