عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے ، ایک طرف خلیجِ میکسیکو کا سمندری طوفان اور دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتا تناؤ، ان دونوں خدشات نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں اوپر کردی ہیں ۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 93 سینٹ، یعنی 0.92 فیصد اضافے کے بعد 101.51 ڈالرز فی بیرل ہوگئی۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت بھی 82 سینٹ یعنی 0.92 فیصد اضافے سے 90.25 ڈالرز فی بیرل پر پہنچ گئی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ امریکی تیل پیدا کرنے والے علاقوں سے سپلائی متاثر ہونے کے خدشات اور یمنی حوثیوں کے سعودی عرب پر حملے ہیں۔
سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن سے تیل کی ترسیل 5.8 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ وٹول کے سربراہ کے مطابق گزشتہ 7 سے 10 دن کے دوران مشرقِ وسطیٰ سے تقریباً 12 ملین بیرل یومیہ خام تیل اور 2 ملین بیرل یومیہ ریفائن شدہ مصنوعات ٹینکروں کے ذریعے برآمد ہوئی ہیں۔
سپلائی متاثر
ادھر امریکی محکمہ موسمیات کے مطابق خلیجِ میکسیکو میں بننے والا طوفان آئندہ دو روز میں 2026 کا پہلا اٹلانٹک ہریکین بن سکتا ہے، اس کے باعث امریکی تیل اور گیس تنصیبات متاثر ہونے کا خدشہ ہے، طوفان کی ممکنہ گزرگاہ میں موجود آف شور تنصیبات امریکا کی مجموعی خام تیل پیداوار کا تقریباً 15 فیصد اور قدرتی گیس کی پیداوار کا 5 فیصد فراہم کرتی ہیں۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا اثر عموماً دنیا بھر میں ایندھن کے نرخوں پر پڑتا ہے، اس لیے آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہو گا کہ طوفان اور خطے کی کشیدگی کیا رخ اختیار کرتی ہے۔