پاکستان کا پانی روکنے کی دھمکی سیاسی اسٹنٹ، بھارت کے پاس پانی ذخیرہ کرنے کا انفرااسٹرکچر نہیں، جسٹس کاٹجو

پاکستان کا پانی روکنے کی دھمکی سیاسی اسٹنٹ، بھارت کے پاس پانی ذخیرہ کرنے کا انفرااسٹرکچر نہیں، جسٹس کاٹجو

بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ مارکنڈے کاٹجو نے کہا ہے کہ بھارت میں ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر ووٹ دینے کا رجحان جمہوری نظام کو مزید نقصان پہنچا رہا ہے، ملک میں صرف انتخابات کی شفافیت کا مسئلہ نہیں بلکہ پورا نظام ہی کھوکھلا ہو چکا ہے۔

آزاد ڈیفنس کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے بھارتی انتخابات اور چیف الیکشن کمشنر سے متعلق سوال پر کہا کہ ان کے خیال میں بھارت میں تقریباً 90 فیصد لوگ ذات اور مذہب کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں اور امیدوار کی اہلیت، کردار، تعلیم، جرائم یا عوام کی زندگی بہتر بنانے کی صلاحیت کو نہیں دیکھتے۔

انہوں نے کہا کہ 2024 کے بھارتی پارلیمانی انتخابات میں بھی بڑی تعداد میں ایسے افراد منتخب ہوئے جن پر سنگین نوعیت کے جرائم کے مقدمات تھے۔ ان کے بقول ذات پات اور مذہبی بنیادوں پر ووٹنگ بھارت کے سیاسی نظام کو متاثر کر رہی ہے اور سیاست دان بھی انتخابی کامیابی کے لیے ذات اور مذہب کی بنیاد پر نفرت کو ہوا دیتے ہیں۔

جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے کہا کہ وہ بھارتی چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے انتخابی فہرستوں میں  بے ضابطگیوں کی بات سے اتفاق کرتے ہیں، تاہم ان کے نزدیک اصل مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انتخابی فہرستیں درست بھی ہوں اور آزاد و شفاف انتخابات بھی ہوں تو صرف قیادت کی تبدیلی سے غربت، بے روزگاری اور مہنگائی جیسے بنیادی مسائل ختم نہیں ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی سپریم کورٹ نے غیر قانونی تارکین کو تیسرے ملک بھیجنے پر پابندیاں ختم کر دیں

انہوں نے بھارت میں جمہوریت کے موجودہ طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کو عمومی اور نظریاتی طور پر دیکھنے کے بجائے یہ دیکھنا چاہیے کہ بھارت میں اس پر عملی طور پر کیسے عمل ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق ذات پات، مذہب اور طبقاتی بنیادوں پر ووٹ بینکس جمہوری عمل پر اثرانداز ہیں۔

جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے کہا کہ ان کے خیال میں بھارت موجودہ حالات میں جمہوریت کے لیے موزوں نہیں اور ملک کو ایک جدید ذہن رکھنے والی آمریت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ترکی کے مصطفیٰ کمال کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک جدیدیت اور ملک کی ترقی کے لیے اس نوعیت کا نظام زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

بھارت میں ہندو مسلم تقسیم اور مسلمانوں کے خلاف مبینہ بڑھتے ہوئے رویوں پر گفتگو کرتے ہوئے سابق بھارتی جج نے کہا کہ یہ صورتحال انتہائی خطرناک ہے۔ ان کے مطابق بھارت ایک انتہائی متنوع ملک ہے جہاں مختلف مذاہب، ذاتیں، زبانیں اور ثقافتیں موجود ہیں، اس لیے ملک کو چلانے کے لیے سب کو برابر احترام دینا ضروری ہے۔

انہوں نے مغل بادشاہ اکبر کی پالیسی ’صلح کل‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی کا بنیادی تصور تمام مذاہب اور برادریوں کو یکساں احترام دینا تھا، اسی لیے ان کے مطابق ایک متنوع ملک میں اسی نوعیت کی پالیسی ہی کامیاب ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت افغانستان میں پراکسیز کے ذریعے دہشتگردی پھیلا رہا ہے، پاکستان نے عالمی سطح پر نیو دہلی کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر دیا

جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے کہا کہ بھارتی آئین میں ملک کو سیکولر قرار دیا گیا ہے، تاہم بعض عناصر اسے ہندو ریاست بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے بقول ایسا ہونے کی صورت میں شمال مشرقی ریاستوں میں موجود عیسائی آبادی اور کشمیر کی مسلم اکثریت سمیت مختلف طبقات خود کو کمتر محسوس کر سکتے ہیں، جس سے ملک میں مزید تقسیم کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاست میں ہندو جذبات اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کو اپیل کرنے سے انتخابی فائدہ حاصل ہوتا ہے، تاہم ان کی اپنی رائے یہ ہے کہ ملک میں تمام مذاہب اور برادریوں کو برابر عزت دی جانی چاہیے۔

بھارت میں مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے کہا کہ مسلمانوں کے ساتھ جابرانہ رویے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، جن میں مبینہ لنچنگ، گھروں کو مسمار کیے جانے اور گرفتاریوں جیسے واقعات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی ہمیشہ مذمت کرتے رہے ہیں۔

سابق بھارتی جج نے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارتی اقدام پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وہ اسے انسانی اور عملی دونوں حوالوں سے درست نہیں سمجھتے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کے نتائج سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے، اسحاق ڈار کا بھارت کو انتباہ

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پہلے ہی پانی کی قلت موجود ہے اور پاکستانی بھی انسان ہیں، اس لیے پانی روکنے کا اقدام انسانی نقطۂ نظر سے درست نہیں۔ ان کے مطابق عملی طور پر بھی دریائے سندھ کا پانی مکمل طور پر روکنا آسان نہیں، کیونکہ اس پانی کو بھارت میں رکھنے کے لیے بڑے ڈیم، ذخائر، بیراج اور دیگر انفرااسٹرکچر درکار ہوگا۔

جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے کہا کہ ایسے انفرااسٹرکچر کی تعمیر میں طویل عرصہ اور بہت زیادہ سرمایہ درکار ہوگا، اس لیے وہ پانی روکنے کے بھارتی اقدام کو ایک سیاسی حربہ سمجھتے ہیں جس کا مقصد ہندو ووٹرز کو اپیل کرنا ہو سکتا ہے۔

بھارت کی نوجوان نسل کے حوالے سے سابق جج نے کہا کہ انہیں بھارتی نوجوانوں سے زیادہ امید نہیں۔ ان کے بقول موجودہ احتجاج کے بعد جب نوجوان اپنی تعلیم مکمل کریں گے تو ان کی ترجیح آرام دہ ملازمت، سول سروس، ڈاکٹر یا انجینئر بننا اور بیرون ملک منتقل ہونا ہوگی۔

بھارتی عدلیہ کے بارے میں جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے کہا کہ صرف عدلیہ ہی نہیں بلکہ بھارت کا پورا نظام متاثر ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق عدلیہ، پارلیمنٹ، بیوروکریسی، پولیس، الیکشن کمیشن اور تعلیمی اداروں سمیت مختلف ادارے اپنی اصل حیثیت کھو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی تعلیمی اداروں میں بھی سیاسی اثر و رسوخ بڑھا ہے اور بعض یونیورسٹیوں میں ایسے وائس چانسلرز مقرر کیے جا رہے ہیں جنہیں وہ سیاسی طور پر وابستہ سمجھتے ہیں۔ ان کے بقول آئینی اداروں کو آزاد ہونا چاہیے تھا لیکن پورا نظام ’فیودلائزڈ‘ اور ’سیفرنائزڈ‘ ہو چکا ہے۔

جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے کہا کہ بھارت میں کسی تبدیلی کے لیے ایک انقلاب کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ہر سیاسی سرگرمی کو جانچنے کا ایک ہی معیار ہونا چاہیے کہ آیا اس سے عوام کا معیار زندگی بلند ہوتا ہے یا نہیں اور کیا لوگوں کو بہتر زندگی ملتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کو غربت، بے روزگاری، بھوک، صحت اور معیاری تعلیم جیسے مسائل سے نجات دلانے کے لیے ملک کو ایک جدید صنعتی ریاست میں تبدیل کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق موجودہ آئینی اور انتخابی طریقہ کار سے یہ تبدیلی ممکن نہیں اور اس کے لیے بنیادی نوعیت کی تبدیلی درکار ہے۔

Related Articles