نوبیل کمیٹی نے امن کے نوبیل انعام 2026 کا اعلان کر دیا ہے، اور اس بار یہ اعزاز ناوانیتھم ناوی پلے کے حصے میں آیا ہے ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ برس بھی کئی بار کھل کر یہ انعام پانے کی خواہش ظاہر کر چکے تھے،مگر اس سال بھی ٹرمپ خالی ہاتھ رہ گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر خود کو نوبل امن انعام کا حق دار قرار دیتے ہوئے اس شک کا اظہار کیا تھا کہ یہ انہیں ملے گا نہیں اور ان کا شک ٹھیک ثابت ہوا ۔
اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اب نوبل امن انعام کا وقت قریب ہے اور اب کی بار یہ انہیں ملنا چاہیے، تاہم انہوں نے اپنے امکانات پر شک کا اظہار بھی کیا تھا، بعد ازاں نوبل امن انعام 2026ء ناوانیتھم ناوی پلے کو دینے کا اعلان کر دیا گیا۔
ناوانیتھم ناوی پلے کون ہیں ؟
امن کا نوبیل انعام جیتنے والی قانون دان ناوانیتھم ناوی پلے کا تعلق جنوبی افریقا سے ہے، نوبیل کمیٹی کے مطابق ناوانیتھم ناوی پلے کو امن اور عالمی قانون کے فروغ پر نوبیل امن انعام دیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ناوانیتھم ناوی پلے عالمی عدالتِ انصاف کی جج تھیں ،1941 میں جنوبی افریقی شہر ڈربن میں پیدا ہونے والی ناوانیتھم ناوی پلے بھارتی نژاد خاندان سے تعلق رکھتی ہیں ، وہ جنوبی افریقا میں نسلی امتیاز کا سامنا کرتے ہوئے بڑی ہوئیں اور ان اولین بھارتی نژاد خواتین میں سے ایک ہیں جنہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی۔
وہ نسل پرستی کے خلاف سرگرم افراد کا عدالتوں میں دفاع کرتی رہیں اور جیلوں کی ناقص حالات کے خلاف لڑتی رہیں۔
جنوبی افریقا کی نسل پرست حکومت کے خاتمے کے بعد وہ روانڈا میں انٹرنیشنل کرمنل ٹربیونل کی جج بن گئیں، جہاں انہوں نے جنسی زیادہ کو جنگی جرائم کا حصہ بنانے کا تاریخ ساز کام کیا۔
بعد ازاں 2008 سے 2014 کے دوران وہ اقوام متحدہ کے ہیومین رائٹس ادارے کی ہائی کمشنر کے طور پر کام کرتی رہیں جبکہ حال ہی میں انہیں غزہ اور اسرائیل میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے قائم کیے گئے اقوام متحدہ کے کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔
نوبیل امن انعام
واضح رہے امن کا نوبیل انعام (نوبیل پیس پرائز) اس شخص کو دیا جاتا ہے جس نے ملکوں کے درمیان رفاقت بڑھانے، مستقل فوجیں ختم یا کم کرنے اور امن کے قیام و فروغ کے لیے سب سے زیادہ یا بہترین کام کیا ہو۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ 2 برسوں سے نوبیل انعام حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے رہے ہیں مگر گزشتہ سال کی طرح اس بار بھی انہیں یہ اعزاز حاصل نہیں ہوسکا ، مختلف ممالک کے ساتھ پاکستان کی جانب سے بھی صدر ٹرمپ کو امن کے نوبیل انعام کا حقدار قرار دیا گیا تھا۔