خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے بدترین دور کا اختتام،عوام خوشی سے نہال،منشیات فروش پریشان

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے بدترین دور کا اختتام،عوام خوشی سے نہال،منشیات فروش پریشان

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کی سیاسی اور انتظامی صورتحال میں بڑی تبدیلی کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں، پی ٹی آئی کے دورِ حکومت کے خاتمے پر خوشی کا اظہار کرنے والے شہریوں کی جانب سے مٹھائیاں تقسیم کی جارہی ہیں، جبکہ منشیات کے غیر قانونی کاروبار سے وابستہ عناصر کی پریشانیاں بھی بڑھ گئی ہیں۔

صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے، دہشت گردی کے خاتمے اور منشیات کے کاروبار کے خلاف مؤثر اقدامات کو اہم چیلنجز قرار دیا جارہا ہے۔

 عوامی توقعات ہیں کہ انتظامی تبدیلی کے نتیجے میں ایسے اقدامات کیے جائیں گے جن سے صوبے میں امن قائم ہو، جرائم پیشہ عناصر کی سرگرمیوں کا خاتمہ ہو اور شہریوں کو محفوظ ماحول میسر آسکے۔

خیبر پختونخوا میں طویل عرصے سے دہشت گردی اور امن و امان کے مسائل پر تشویش پائی جاتی ہے، اب ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے میں امن کی بحالی اور دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائیوں کی امیدیں وابستہ کی جارہی ہیں۔

عوامی حلقوں کی توقع ہے کہ نئی انتظامی صورتحال میں دہشت گردوں کے خلاف مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے گی، ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی ہوگی اور ریاستی رٹ کو مضبوط بنایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں :سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں آگئے، ایمرجنسی، گورنر راج ضرورت کے تحت نافذ ہی رہے گا، اختیار ولی

صوبے میں منشیات کے غیر قانونی کاروبار کے خلاف کارروائیاں بھی ایک اہم معاملہ بن کر سامنے آئی ہیں، گورنر راج کے بعد توقع کی جارہی ہے کہ منشیات فروشوں کے خلاف گھیرا تنگ کیا جائے گا، ان کے نیٹ ورکس کی نشاندہی کی جائے گی اور قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

منشیات کے کاروبار سے وابستہ عناصر کے خلاف سخت اقدامات کی ضرورت اس لیے بھی محسوس کی جاتی ہے کہ اس غیر قانونی کاروبار کے اثرات نوجوان نسل، خاندانوں اور معاشرتی ماحول پر مرتب ہوتے ہیں۔
اگر متعلقہ ادارے منظم انداز میں کارروائیاں کریں، مالی سرپرستی کے نظام کا سراغ لگائیں اور قانون کی یکساں عمل داری یقینی بنائیں تو اس کاروبار کی حوصلہ شکنی کی جاسکتی ہے۔

سابق صوبائی حکومت کے دور میں ایسے عناصر کے خلاف مزید سخت اور مؤثر اقدامات ہونے چاہییں تھے تاہم پی ٹی آئی حکومت میں منشیات فروشوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی جس کے باعث ان کی کارروائیاں بڑھ گئیں تھیں اب امید ہے کہ صوبے میں ان کا نیٹ ورک توڑا جائے گا ۔

اب گورنر راج کے نفاذ کے بعد اصل امتحان یہ ہوگا کہ انتظامیہ منشیات فروشوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرکے ان کے ممکنہ سہولت کاروں اور سرپرستی کے نظام کو کس حد تک ختم کرتی ہے۔

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد عوام کی نظریں حکومت اور متعلقہ اداروں پر مرکوز ہیں۔ شہری چاہتے ہیں کہ دہشت گردی کے خاتمے، منشیات کے غیر قانونی کاروبار کی روک تھام اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں کو عملی شکل دی جائے۔

صوبے میں حقیقی تبدیلی اسی وقت ممکن ہوگی جب دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے ساتھ منشیات فروشوں کے نیٹ ورکس کا خاتمہ، نوجوان نسل کا تحفظ اور قانون کی بالادستی یقینی بنائی جائے عوامی توقعات کے مطابق اگر ان اہداف کے حصول کے لیے مؤثر اقدامات کیے جاتے ہیں تو خیبر پختونخوا میں امن و استحکام کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

editor

Related Articles