سابق وزیراعلی گلگت بلتستان حفیظ الرحمن نےگرین پاکستان ٹوارزم پراجیکٹ کیخلاف چلنے والے منفی پراپیگنڈا کرنیوالے پر برس پڑے۔
سابق وزیراعلی گلگت بلتستان حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ میں 2022 میں یہاں نہیں تھا اور نہ ہی میں گرین ٹورازم پراجیکٹ کے کسی آفیسر ملا ہوں ، لیکن ہمارے اپنے ایک آفیشل آصف اللہ ہیں وہ بڑے قابل آفسر ہیں ان سے ملاقات کر کے اس سے متعلق تفصیلات لوں گا ۔انہوں نے کہا کہ میرے پاس اس پراجیکٹ کی اثاثے کی مالیت نکالی گئی ہے جو ریسٹوریز ہیں ان کی دس بلین کے قریب مالیت ہے ، اس پر انہوں نے تین بلین روپے انویسٹ کرنا ہے یعنی گرین ٹورزم کمپنی نے انویسٹرز کو لا کر اس منصوبے پر تین بلین روپے اس کے انویسٹ کرنے ہیں ۔ جس کا رینٹ 20 فیصد جی بی خزانے میں جائے گا ، اس پر پرافٹ شیئرنگ 35 فیصد ہے ، یعنی 35 فیصد پرافٹ دیا جائے گا ۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کے بانی کو 27 جون کو رہا کیا جا سکتا ہے، رانا ثناء اللہ
انہوں نے کہا کہ یہ 30 سال لیے لیز ہونگے اور 30 سالوں بعد واپس جی بی کو واپس کیے جائیں گے ۔ یہ ہمیں بتایا جا رہا ہے اب اس میں دو سوال اٹھتے ہیں کہ وہ لوگ جو پہلے گلگت بلستان میں کہتے تھے اور اب بجٹ ڈاکومنٹ کے اندر یہ بات شامل ہے ، اس بار کوئی 17 کہہ رہا ہے کوئی 27 کہہ رہا ہے ہم 17 کو مانتے ہیں یعنی تین کروڑ روپے قومی خزانے میں آرہے ہیں ، یعنی 17کروڑ ان پر لگارہے ہیں تو خزانے میں سے 15 کروڑ روپے ہر سال ان ریسٹوریز کے اوپر انٹرنس اور مینٹی نینس کے اوپر لگا رہے ہیں۔
سابق وزیراعلی گلگت بلستان کا کہنا تھا کہ اگر کل کلاں ریسٹوریز 20 فیصد اور 35 فیصد انٹرسٹ میں دیتے ہیں ، اگر سال میں اگر 10 کروڑ بھی خزانے میں آتے ہیں تو کوئی خسارے کے سودا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج ایک ڈسپلن ادارہ ہے ، ایک ہماری پانچ سے 6 لاکھ آرمی اور پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے ، اب روایتی جنگ کا تصور تو رہا نہیں کہ فوج در فوج آپس میں لڑے ، اب آپ کو انٹرنل لڑایا جائے جارہا ہے ، اس وقت ہماری ڈیڑ ھ لاکھ فوج دہشتگردی کیخلاف لڑ رہی ہے ۔ لیکن اس وقت سوشل میڈیا پر پاکستان اور اداروں کیخلاف منفی پراپیگنڈے کیے جارہے ہیں جو قابل مذمت ہیں ۔
یہ بھی پڑھیں: آج سے یکم جولائی تک مون سون بارشوں کی پیش گوئی
انہوں نے کہا کہ گرین ٹوارزم کو ایشو میں بنا کر پیش کر کیا جارہا ہے، بعض لوگ تو نادانی کر رہے ہیں لیکن بعض لوگ اسے ایک نریٹو بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ملک کے کسی بھی ادارے کیخلاف منفی پراپیگنڈا نہیں کرنا چاہیے، یہ ہمارے اور اس ملک کے ادارے ہیں ۔

