(پون کمار)
ایدھی فائونڈیشن کے چئیرمین فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ ہم نے تقریباََ تین سال سے میٹھا در کے باہر ایک بینر لگایا ہوا تھا کہ ہمارے پاس اب زندہ بچے نہیں آرہے۔ اس لیے ہم نے ایڈوپٹیشن کا سیکشن عارضی طور پر بند کیا ہوا ہے۔ اس بینرکو لگے تقریباََ تین سال ہوگئے ہیں ۔اس کے بعد سے ہم ایڈوپٹیشن فارم جمع نہیں کررہے اور یہ کام بہت سلو ہوگیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ پہلے ہمارے پاس 20کے قریب زندہ بچے آجاتے تھے، اب ہمیں مرے ہوئے بچے 20/25کے قریب ملتے ہیں۔ یہ ایبورٹ بچے زیادہ ترپانچویں یا چھٹے مہینے کے ہوتے ہیں کیونکہ یہ چیز پہلے کراچی میں نہیں تھی۔ پچھلے چھ سالوں میں بہت ہوئی ہے۔ پولیس نے اس کا ڈیٹا بھی بنا لیا ہے، پولیس کو معلوم ہے کہ کونسے علاقوں میں سے یہ لاشیں ملتی ہیں ان کو یہ بھی پتا ہے کہ کونسے علاقوں میں یہ بچوں کو ضائع کیا جاتا ہے ۔لیکن پولیس ابھی اس پر ایکشن نہیں لے رہی شاید وہ کسی بڑے حکام کے آرڈر کے منتظر ہیں، ان کے پاس پورا ڈیٹا ہے وہ یہ کر سکتے ہیں۔
ایدھی سینٹر میں اب مرے ہوئے بچوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، اس لئے ہم نے گود لینے کا سیکشن پچھلے تین سال سے بند کردیا ہے۔۔۔! مرے ہوئے بچوں کی تعداد کیوں بڑھ رہی ہے؟ فیصل ایدھی سے جانئے pic.twitter.com/kag4l7QqN2
— Azaad Urdu (@azaad_urdu) August 7, 2024


