وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا آئینی ترمیم کیخلاف ملک بلاک کرنے کا اعلان

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا آئینی ترمیم کیخلاف ملک بلاک کرنے کا اعلان

وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف احتجاج کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم آزاد عدلیہ پر حملہ ہے، ہم احتجاج کے دوران اسلام آباد کی جانب بڑھیں گے اور اس وقت تک واپس نہیں پلٹیں گے جب تک کہ ان سے جان نہیں چھڑوالیتے۔ بس عمران خان سے میٹنگ کی دیر ہے۔

انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کیساتھ ملاقات کے بعد احتجاج کریں گے اور ساراپاکستان بلاک کریں گے۔ احتجاج کیلئے پورے ملک سے لوگ آئیں گے، فائنل احتجاج کا ایک بڑا پلان بنائیں گے اور پورے ملک میں احتجاج کریں گے۔ احتجاج کے دوران جسے جہاں رکاوٹیں ملیں گی تو وہیں پر ہی احتجاج جاری رکھے کیونکہ رکاوٹیں عبور کرنا ہر کسی کیلئے ممکن نہیں ہوگا۔

مزید پڑھیں: سینئر جج کو پروموٹ نہ کیا تو ہم اس کے حق کیلئے نکلیں گے، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا احتجاج حکومت سے جان چھڑانے تک جاری رہے گا، اس کے علاوہ آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والوں کو پارٹی سے نکالیں گے کیونکہ جو شخص عمران خان کی پارٹی کی پیٹھ میں چھرا گھونپے گا وہ غدار ہے اور ہمیشہ غدار ہی رہے گا۔کوئی فرق نہیں پڑتا اس کاباپ کون ہے۔

مزید پڑھیں: حامد خان کا 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف وکلا تحریک شروع کرنے کا اعلان

دوسری جانب خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے رکن فاروق ایچ نائیک نے نئے چیف جسٹس کے انتخاب کے حوالے کہا ہے کہ قابلیت کو مدنظر رکھ کر چیف جسٹس کا انتخاب ہو گا۔ انہوں نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئے چیف جسٹس کے انتخاب میں قابلیت کو مدنظر رکھا جائے گا اور توقع ہے کہ ایک اچھی کارکردگی کا حامل چیف جسٹس منتخب ہوگا۔ فاروق ایچ نائیک نے مزید وضاحت کی کہ خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں پی ٹی آئی کے رہنما بھی شامل ہیں اور انہیں تھوڑا وقت دیا جانا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ نئے چیف جسٹس کے انتخاب کے لئے پہلے تین سینئر ججز میں سے کسی ایک کو منتخب کیا جائے گا۔ نائیک نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں آرٹیکل 63 اے کے تحت ووٹ شمار نہ کرنے کا ذکر ہے، حالانکہ آئین میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ووٹ کاؤنٹ نہیں ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ سب کو یہ بات معلوم ہے کہ سپریم کورٹ میں تقسیم ہو چکی ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ آئینی ترامیم ملک کے لئے بہتر ثابت ہوں گی یا نہیں، جبکہ ان ترامیم کو چیلنج کرنے والے بھی سامنے آئیں گے۔

editor

Related Articles