پاکستان مسلم لیگ(ن)کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ملک دھنگا مستی میں گھرا ہوا ہے، اگر یہی حالات رہے تو پاکستان ریموٹ کنٹرول جمہوریت سے آگے نہیں بڑھ سکتا یہ نہیں ہو سکتا کہ صرف سیاستدان ہی رگڑا کھائیں۔
تفصیلات کے مطابق لاہور میں اپنے والد محمد رفیق کی برسی کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران سعد رفیق کا کہنا تھا کہ تاجروں کے نام پر ایک ایکشن کمیٹی بناکر لوگ نکلتے ہیں اور ریاست گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتی ہے تو پھر اس پر سوالیہ نشان تو اٹھیں گے کیونکہ اس طرح لوگ جتھے بناکر نکلیں گے تو کس کس کی بات آپ مانیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے عمران خان سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں شاید اپنی طاقت کا اندازہ نہیں لیکن ہمارے دشمن کو ہے، جب آپ کے ارد گرد گھیرا ڈالا جارہا ہےاور آپ کو دکھائی بھی دے رہا ہو تو کیا آنکھیں بند کی جاسکتی ہیں، کیا خاموش رہا جاسکتا ہے۔ لیگی رہنما نے کہا کہ میری تجویز ہے کہ پاکستان تحریک انصاف سے مذاکرات کا عمل کامیاب ہونا چاہیے۔
انہوں نے ملک کو موجودہ سیاسی بحرانوں سے نکالنے کیلئے قومی کمیٹی کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الر حمٰن ، حافظ نعیم الر حمٰن ، شاہد خاقان عباسی، ڈاکٹر مالک بلوچ، آفتاب خان شیرپاؤ، پیر پگارا، چوہدری نثار علی خان سمیت دیگر اسٹیک ہولڈز کو کمیٹی کا حصہ بنانا چاہیے، جو نہ حکومت اور نہ ہی پی ٹی آئی اتحاد کا حصہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سینئر سیاستدان ملک کو ٹریک پر واپس لانے کیلئے سوچ بچار کریں، یہ نہ ہو کہ مزید نقصان اٹھانا پڑے، ریاستی اداروں کی توہین کی جارہی ہے اور اس پر دوسری جانب سے ردعمل آرہا ہے، سمجھ نہیں آرہی ہے کہ سچا کون اور جھوٹا کون ہے ؟ ۔
سعد رفیق کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ سیاست میں کوئی دفن نہیں ہوسکتا، یہ غلط فہمی سب کو دور کرلینی چاہیے، نہ کوئی بھٹو کی سیاست کوئی ختم کرسکا اور نہ نواز شریف کی کرسکا اور نہ ہی سیاست کو غیر فطری طریقے سے روکا جاسکتا ہے ۔