اسلام آباد: فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے انٹرپول ونگ نے انسانی اسمگلنگ اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث بین الاقوامی مجرموں کی گرفتاری کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق سال 2024 کے دوران انٹرپول نے ایف آئی اے کو انسانی اسمگلنگ میں مطلوب 23 ملزمان کی گرفتاری کے لیے ریڈ نوٹسز جاری کیے تھےجس کے نتیجے میں متعدد مجرموں کو گرفتار کیا گیا۔
گزشتہ سال انٹرپول پاکستان نے سنگین جرائم میں مطلوب 116 ملزمان کو مختلف ممالک سے گرفتار کیا۔ ان ملزمان پر قتل، اقدام قتل، ڈکیتی، اغوا، انسانی اسمگلنگ اور کرپشن جیسے جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔ اس سلسلے میں انٹرپول نے 162 ریڈ نوٹسز جاری کیے، جن میں سے 111 پنجاب پولیس، 2 نیب، 2 ایف آئی اے، اور 1 خیبرپختونخوا پولیس کو مطلوب مجرموں کے خلاف جاری کیے گئے تھے۔سال 2024 کے دوران این سی بی انٹرپول نے 7 ییلو اور 2 بلیو نوٹسسز بھی جاری کئے ۔
متعدد ممالک سے گرفتاریاں عمل میں آئیں جن کی تفصیلات یہ ہیں :متحدہ عرب امارات سے 53،سعودی عرب سے 32،عمان سے 6،اسپین اور اٹلی سے 4، 4،آذربائیجان، کویت، بحرین، ملائیشیا اور کرغیزستان سے 2، 2 ،سوئٹزرلینڈ، جرمنی، یونان، فرانس، برطانیہ اور قطر سے 1، 1 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ ان گرفتار ملزمان کو ایئرپورٹس پر ایف آئی اے امیگریشن حکام نے متعلقہ پولیس اداروں کے حوالے کیا۔
ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل احمد اسحاق جہانگیر نے کہا کہ سنگین جرائم میں مطلوب ملزمان کی گرفتاری کے لیے انٹرپول کے جدید “فائنڈ سسٹم” کا آئی بی ایم ایس سسٹم کے ساتھ انضمام نے گمشدہ بچوں کی بازیابی اور ملزمان کی شناخت کو مزید مؤثر بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں تیز کی جا رہی ہیں اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مضبوط روابط قائم کیے جا رہے ہیں۔
ترجمان ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ انٹرپول کی معاونت سے انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں اور سنگین جرائم میں مطلوب اشتہاری ملزمان کے لیے دنیا میں کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں۔ ایف آئی اے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کو مزید مؤثر بنا رہا ہے۔