نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس (این ایچ اینڈ ایم پی) نے تیز رفتاری کے خلاف اپنی مہم تیز کر تے ہوئے گزشتہ ایک ماہ میں موٹر ویز پر 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کی حد سے تجاوز کرنے والے ڈرائیورز کے خلاف 112 ایف آئی آر درج کی ہیں۔
ترجمان موٹر ویز پولیس کے مطابق، موٹر ویز کے مختلف زونز میں اوور اسپیڈنگ پر اب تک 112 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اوپر جانے والے ڈرائیورز کے خلاف کریک ڈاؤن موٹرویز پر نافذ العمل کیا گیا ہے، جن میں لاہور سیالکوٹ موٹروے (M2)، لاہور-ملتان موٹروے (M3)، اور موٹرویز M4 اور M5 شامل ہیں۔ آپریشن کے تحت موٹروے پولیس نے ڈرائیوروں کو ان کی گاڑیوں سمیت تحویل میں لے کر مقامی پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ درج ایف آئی آر میں لاپرواہی اور غفلت سے گاڑی چلانے کے الزامات شامل ہیں۔
لاہور-سیالکوٹ موٹروے: 8 مقدمات درج، لاہور-اسلام آباد موٹروے (M-2): 43 ایف آئی آر درج، لاہور-عبدالحکیم موٹروے (M-3): 8 مقدمات درج، ملتان-پنڈی بھٹیاں موٹروے پر 12 ایف آئی آر درج کی گئیں ہیں۔ ترجمان موٹر ویز پولیس نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تین لین والی موٹر ویز کی رفتار کی حد نجی گاڑیوں کے لیے 120 کلومیٹر فی گھنٹہ اور پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے 110 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ ان حدود کی خلاف ورزی سے عوامی تحفظ کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
ترجمان نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر ویز پولیس نے اس بات پر زور دیا کہ ٹریفک قوانین کو نافذ کرنے کے پختہ عزم کے ساتھ مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانا ان کی اولین ترجیح ہے۔ موٹروے پولیس کے انسپکٹر جنرل رفعت مختار راجہ نے حکام کو تیز رفتاری کے خلاف کوششیں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
موٹروے پولیس نے قومی شاہراہوں پر محفوظ سفر کو یقینی بنانے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے گاڑی چلانے والوں استدعا کی ہےکہ حادثات کو روکنے کے لیے رفتار کی حد کی پابندی کریں۔