وفاقی حکومت کا بڑا فیصلہ، کابینہ کمیٹی سے مستقل ہونے والے سول افسران کے لیے بری خبر

وفاقی حکومت کا وزارت قانون کی رائے آنے پر کابینہ کی سب کمیٹی سے مستقل ہونے والے گریڈ 16 اور اس کے اوپر کے افسران کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزارت قانون کی رائے کے بعد فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) کی پوسٹوں پر کابینہ کمیٹی سے مستقل ہونے والے افسران کو فارغ کیے جانے کا فیصلہ سامنے آیا ہے، مستقل کیے جانے والے افسران کی تقرری کو سول سرونٹ ایکٹ اور ایف پی ایس سی کے قانون کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔

کابینہ کمیٹی سے مستقل ہونے والے تمام افسران کے کیسز اپف پی ایس سی کو بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے جس کے بعد اپف پی ایس سی تمام امیدواروں کے ٹیسٹ اور انٹرویو دوبارہ لے گی، اس حوالے سے اسٹبیلشمنٹ ڈویژن نے آفس میمورنڈم جاری کر دیا ہے۔

ہفتہ کے روز اسٹبلشمنٹ ڈویژن نے سپریم کورٹ آف پاکستان نے 13-09-2024 کو محسن رضا گوندل اور دیگر کی جانب سے دائر کردہ سول درخواستوں نمبر 949،1025،1028،1132 اے 1134 آف 2023 میں سنایا گیا فیصلہ کے عنوان سے میمورنڈم جاری کیا ہے۔

میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ ’کمیٹی کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی جانب سے وفاقی حکومت کے ملازمین کو گریڈ 16 اور اس سے اوپر کے عہدوں پر مستقل کرنے سے متعلق مذکورہ بالا مقدمات میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے 13-09-24 کے فیصلے کی کاپی بھی پیش کرے۔

میمورنڈم کے مطابق مذکورہ فیصلے کے وسیع تر مضمرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے رولز آف بزنس 1973 کے رول 14 کے تحت لا اینڈ جسٹس ڈویژن کی رائے بھی طلب کی ہے۔ ڈویژن دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ مندرجہ ذیل رائے دیتی ہے۔

میمورنڈم میں مزید کہا گیا ہے کہ ’سپریم کورٹ آف پاکستان نے 13 ستمبر 2024 کے اپنے فیصلے میں نہ صرف سول سرونٹس ایکٹ بلکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن آرڈیننس 1977 (1977 کا ایکس ایل وی) اور سول سرونٹس ایکٹ کے تحت بنائے گئے تقرریوں، ترقیوں اور تبادلوں سے متعلق قواعد کی بھی جامع تشریح کی ہے۔ اس تشریح کے ذریعے سپریم کورٹ نے قانون کے ایک اصول کو مؤثر انداز میں بیان کیا ہے اور اس طرح آئین پاکستان کے آرٹیکل 189 کے تحت ایک لازمی مثال قائم کی ہے۔

فیصلے کے دائرہ کار اور قانونی دفعات کی اس کی مستند تشریح کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے۔ یہ درجہ بندی کیس میں شامل فریقین کے علاوہ اس کے اطلاق کو یقینی بناتی ہے ، جس سے دائرہ اختیار میں تمام عدالتوں، ٹربیونلز اور متعلقہ حکام کے لیے زیر بحث قوانین کی تشریح پر پابند رہنمائی فراہم ہوتی ہے۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے میمورنڈم میں ہدایت کی گئی ہے کہ مذکورہ بالا کے پیش نظر تمام وزارتوں، ڈویژنوں، محکموں، کیڈر ایڈمنسٹریٹروں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے مذکورہ بالا فیصلے کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے مزید ضروری کارروائی عمل میں لائیں۔

ادھر اسٹبلیشمنٹ ڈویژن نے وزارت قانون سے رائے لینے کے بعد مراسلہ تمام سیکرٹریز کو ارسال کر دیا ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ تمام سیکرٹریز اپنے اپنے محکموں میں ایف پی ایس سی کی پوسٹوں پر مستقل ہونے والے افسران کے کیسز ایف پی ایس سی کو فوری ارسال کریں۔

ادھر سپریم کورٹ آف پاکستان نے  کابینہ کمیٹی برائے ریگلورائزیشن کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے، کابینہ کمیٹی کے پاس صرف گریڈ ایک سے 15 کے ملازمین کو مستقل کرنے کا اختیار تھا، سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کابینہ کمیٹی نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا، اس فیصلے سے مختلف وزارتوں، ڈویژن  میں سول سرونٹ کی پوسٹوں پر مستقل ہونے والے درجنوں افسران متاثر ہوں گے۔

فیصلے سے بورڈ اف امیگریشن، ایف آئی اے، اسٹیٹ آفس ، فیڈرل ایجوکیشن، فیڈرل سیڈ سرٹیفکیشن ، پاسپورٹ آفس، اور دیگر محکموں کے افسران متاثر ہوں گے، ایف پی ایس سی تمام امیدواروں کے دوبارہ فٹنس، اہلیت کا جائزہ لے گی، اسٹبلیشمنٹ ڈویژن کے اس فیصلے کا اطلاق صرف سول پوسٹ، ایف پی ایس سی کی سیٹوں پر ہوگا، خود مختار ادارے، کارپوریشن، اتھارٹیز پر اس فیصلے کا اطلاق نہیں ہوگا۔

Related Articles