’جانسن بے بی پاؤڈر‘ سے کینسر کا قضیہ، ایک دہائی کی قانونی جنگ ختم، کیا ہزاروں خواتین کو انصاف ملے گا؟

’جانسن بے بی پاؤڈر‘ سے کینسر کا قضیہ، ایک دہائی کی قانونی جنگ ختم، کیا ہزاروں خواتین کو انصاف ملے گا؟

عالمی صحت کمپنی جانسن اینڈ جانسن نے اپنے بے بی پاؤڈر اور دیگر ٹیلک مصنوعات سے متعلق رحم کے سرطان کے ہزاروں مقدمات نمٹانے کے لیے 5.5 ارب ڈالر کی ادائیگی پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، جو ایک دہائی سے جاری قانونی جنگ کے خاتمے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔

امریکی کمپنی جانسن اینڈ جانسن نے پیر کو اعلان کیا کہ وہ اپنے بے بی پاؤڈر اور دیگر ٹیلک مصنوعات کے باعث رحم کے سرطان کا شکار ہونے کے الزام میں دائر ہزاروں مقدمات نمٹانے کے لیے تقریباً 5.5 ارب ڈالر ادا کرے گی۔

کمپنی کے مطابق یہ سمجھوتہ تقریباً 76 ہزار دعوؤں کا احاطہ کرتا ہے، جن میں نیوجرسی کی وفاقی عدالت میں یکجا کیے گئے مقدمات اور ریاستی عدالتوں کے متعلقہ مقدمات شامل ہیں، جو کہ باقی ماندہ ٹیلک دعوؤں کی تقریباً مکمل تعداد کے مساوی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول، موبائل اور انٹرنیٹ مہنگا ہونے کے بعد ادویات کی قیمتوں سے متعلق بھی اہم خبر آگئی

کمپنی اس سے قبل ٹیلک میں ایسبیسٹس کی ملاوٹ سے میسوتھیلیوما کے باعث ہونے والے زیادہ تر مقدمات پہلے ہی نمٹا چکی ہے۔

دعویداروں کے وکلا نے پیر کو اس سمجھوتے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ایک دہائی طویل قانونی لڑائی کے بعد ایک اچھا حل قرار دیا۔

تاہم یہ سمجھوتہ اسی وقت حتمی تصور ہوگا جب ریاستی یا وفاقی عدالت میں موجود رحم کے سرطان کے 95 فیصد دعویداران اسے قبول کر لیں گے۔

کمپنی کے نائب صدر برائے قانونی معاملات نے کہا کہ یہ دعوے ‘بے بنیاد’ ہیں، تاہم کمپنی نے معاملے کو حتمی طور پر نمٹانے کے لیے سمجھوتہ کرنے کو ترجیح دی۔

ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کو یقین ہے کہ مزید قانونی چارہ جوئی کی صورت میں بھی وہ کامیاب رہتی، جیسا کہ اب تک سماعت میں لائے گئے زیادہ تر مقدمات میں ہوا، تاہم یہ سمجھوتہ کمپنی کو اس معاملے کو پیچھے چھوڑ کر جان بچانے والی ادویات اور آلات کی تیاری کے مشن پر توجہ مرکوز رکھنے کا موقع فراہم کرے گا۔

کمپنی کے مطابق وہ 2027 میں 3 ارب ڈالر ادا کرے گی، جبکہ باقی رقم کی ادائیگی 2028 میں کی جائے گی۔ تاہم یہ رقم شامل ہونے والے دعویداران کی تعداد کے لحاظ سے مزید بڑھ بھی سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ کا جعلی ادویات کیس میں سخت برہمگی کا اظہار، ایف آئی اے سے کیس کا مکمل ریکارڈ طلب

مدعیوں کے تقریباً 2500 مؤکلین کی نمائندگی کرنے والے اور اس سمجھوتے کی مذاکرات میں شامل ایک وکیل کا کہنا تھا کہ کمپنی بالآخر 7 ارب ڈالر یا اس سے بھی زیادہ رقم ادا کر سکتی ہے، کیونکہ سمجھوتے میں اہل دعوؤں کے لیے مخصوص رقوم طے کی گئی ہیں مگر کمپنی کی مجموعی ادائیگی کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی۔ وکیل نے کہا کہ یہ ایک ‘منصفانہ سمجھوتہ’ ہے اور ان کے موکلین اس سے مطمئن ہوں گے۔

یہ سمجھوتہ کمپنی کی جانب سے عدالتوں میں حاصل کی گئی متعدد کامیابیوں کے بعد سامنے آیا، جن میں انفرادی مقدمات میں فتح، درخواست گزاروں کے وکلا کو مقدمے سے الگ کرانے کی کامیاب کوششیں اور ماہرینِ شہادت کے خلاف عدالتی فیصلے شامل ہیں جنہیں مدعیوں نے اپنے دعوے ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا تھا۔

گزشتہ ہفتے ہی کمپنی کو ایک اہم عدالتی کامیابی ملی تھی، جب ایک وفاقی جج نے انفرادی مدعیوں کی اس اہلیت پر شکوک کا اظہار کیا تھا کہ آیا وہ یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ ان کے رحم کے سرطان کی وجہ خاص طور پر ٹیلک ہی تھی۔

مزید پڑھیں:40 جان بچانے والی نئی ادویات کی قیمتوں کی منظوری لٹک گئی، کینسر اور شوگر کے مریض شدید مشکلات کا شکار

کمپنی طویل عرصے سے اس بات کی تردید کرتی رہی ہے کہ اس کی ٹیلک مصنوعات سرطان کا باعث بنتی ہیں، اور اس کا مؤقف رہا ہے کہ ٹیلک محفوظ ہے اور اس میں ایسبیسٹس شامل نہیں۔

 کمپنی نے 2020 میں امریکہ میں ٹیلک پر مبنی بے بی پاؤڈر کی فروخت روک کر اسے کارن اسٹارچ پر مبنی مصنوعات سے تبدیل کر دیا تھا۔

یہ قانونی جنگ مارچ 2025 میں دوبارہ شروع ہوئی، اس سے قبل 3 سال سے زیادہ عرصے تک یہ مقدمہ اس وقت رکا رہا جب کمپنی نے ایک شیل کمپنی ذیلی ادارے کے ذریعے تین بار دیوالیہ پن کی درخواستیں دائر کر کے مقدمات نمٹانے کی حکمتِ عملی اپنانے کی ناکام کوشش کی، جسے ‘ٹیکساس ٹو اسٹیپ’ کہا جاتا ہے۔ ہر بار یہ دیوالیہ پن کی درخواست عدالت سے مسترد ہو گئی۔

Related Articles