بلوچستان میں پائیدار امن کے لیے دل جیتنا ضروری ہیں، بلاول بھٹو زرداری

بلوچستان میں پائیدار امن کے لیے دل جیتنا ضروری ہیں، بلاول بھٹو زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدارامن صرف عسکری کارروائیوں سے حاصل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے جو وہاں کے عوام کے دل جیتنے پرمبنی ہو۔

کراچی میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کی پلاٹینم جوبلی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے بلوچستان کے مسئلے کو ’تاریخی اور پیچیدہ‘ قرار دیا اور تسلیم کیا کہ اس صوبے کو درپیش چیلنجز کو وفاقی سطح پراکثر پوری طرح سمجھا نہیں جاتا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 92 ہزار جانوں کی قربانی دی ہے، بلاول بھٹو زرداری

انہوں نے کہا کہ ’اگرچہ بعض حالات میں عسکری کارروائیوں کی ضرورت بھی ناگزیر ہوتی ہے، لیکن صرف ایسے اقدامات بلوچستان کے مسائل کا حل نہیں ہیں۔ صوبائی حکومت ایسی منصوبہ بندی کر رہی ہے جو صرف سیکیورٹی تک محدود نہ ہو، بلکہ عوام کے دل و دماغ جیتنے کے لیے بھی ہو۔ یہی اصل جنگ ہے جو ہم بلوچستان میں لڑ رہے ہیں اور جیتنا چاہتے ہیں‘۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) چیئرمین نے بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے مسلسل رابطے، طویل مدتی سرمایہ کاری اور جامع ترقی کو لازمی قرار دیا اور کہا کہ پالیسی سازی میں مقامی آبادی کی شمولیت کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

بلاول بھٹو نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستانی صحافیوں کے کردارکو سراہا اور کہا کہ انہوں نے بھارتی پروپیگنڈے کا مؤثراندازمیں جواب دیا۔ انہوں نے ڈیجیٹل میڈیا کی اہمیت پر بھی زوردیا۔

انہوں نے کہا کہ ’حالیہ تنازعے نے ثابت کیا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز قومی اثاثہ ہیں۔ حکومت کا جنگ کے دوران ڈیجیٹل میڈیا پر سے پابندی ہٹانا خوش آئند قدم تھا اور یہ خوشی کی بات ہے کہ وہ پابندی دوبارہ نہیں لگی۔ میری خواہش ہے کہ ایسا ہی رہے‘۔

مزید پڑھیں:بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کو ہر محاذ پر تاریخی فتح ملی، بلاول بھٹو

بلاول بھٹو نے ان میڈیا حملوں کا بھی ذکر کیا جو دشمن قوتوں، خاص طور پر بھارت، کی جانب سے بلوچستان، سندھ اور کشمیر جیسے خطوں کو نشانہ بنا کر کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ’پی ایف یو جے‘ کے ساتھ مل کر ایسا قانون لائیں گے جو جھوٹی خبروں کا مقابلہ کرے اور صحافت کا تحفظ کرے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم صحافیوں کے تحفظ کے لیے قوانین پرعمل درآمد کریں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ صحافی بھی ہمارے ساتھ اس کوشش میں شریک ہوں‘۔

پی پی پی سربراہ نے امید ظاہر کی کہ وفاقی حکومت میڈیا سے متعلق کچھ پالیسیوں پرنظر ثانی کرے گی اور آزاد و ذمہ دار صحافت کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا‘۔

Related Articles