فیصل آباد(امان راجپوت) فیصل آباد کے سب سے بڑے الائیڈ اسپتال 1 میں ’سی ٹی اینجیو‘ مشین نہ ہونے پر تشویشناک حالت میں مبتلا مریضہ کو لاہور ریفر کر دیا گیا۔ اس واقعے نے پنجاب حکومت کے اسپتالوں میں جدید سہولیات کی فراہمی کے تمام تر دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔
مریضہ عذرا بی بی کو اندرونی خون بہنے (انٹرنل بلیڈنگ) اور گائنی کے پیچیدہ مسائل کے باعث الائیڈ اسپتال 1 لایا گیا تھا۔
3 روز تک اسپتال میں داخل رکھنے کے بعد انتظامیہ نے اچانک لاچاری ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال میں ’سی ٹی اینجیو‘ مشین موجود نہیں ہے، اس لیے مریضہ کو لاہور لے جایا جائے۔
لواحقین کے مطابق انہیں کلینک پر بھاری فیس کے عوض علاج کروانے کا مشورہ دیا گیا۔ انہوں نے صوبائی وزیر صحت کے حالیہ دورہ فیصل آباد کو محض دعوؤں کی حد تک محدود قرار دیا، جہاں اربوں روپے بجٹ والے اسپتال میں بنیادی نوعیت کی مشینری تک موجود نہیں اور غریب عوام دربدر ہو رہے ہیں۔
سرکاری اسپتالوں کی مجموعی صورتحال
یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ یہ صورتحال صرف ایک اسپتال تک محدود نہیں، بلکہ شہر کے کسی بھی سرکاری اسپتال میں انٹروینشن کارڈیالوجسٹ ڈاکٹرز کے پاس ضروری مشینری میسر نہیں ہے۔
واضح رہے کہ سہولیات کے اس فقدان کے باعث متاثرہ مریضہ عذرا بی بی اس وقت لاہور کے جنرل اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
ایم ایس الائیڈ اسپتال کا مؤقف
اس تشویشناک صورتحال پر نیوز ادارے ’آزاد ڈیجیٹل‘ نے ایم ایس الائیڈ اسپتال 1 سے رابطہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مریضہ کی جان بچانے کی غرض سے فوری طور پر انہیں جنرل اسپتال لاہور منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
ایم ایس نے مزید بتایا کہ مریضہ نے گائنی مسائل کے لیے ابتدا میں کسی مستند ڈاکٹر کے بجائے محلے کی دایا سے علاج کروایا تھا، جس کی وجہ سے ان کا کیس انتہائی پیچیدہ ہو گیا تھا۔
تاہم، انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ مشینری کی فراہمی کے لیے متعلقہ حکام کو ڈیمانڈ بھیج دی گئی ہے اور جلد ہی اسپتال میں تمام تر مشینری موجود ہوگی جس سے شکایات کا ازالہ ہو جائے گا۔
فیصل آباد ڈویژن کی کروڑوں کی آبادی علاج معالجے کے لیے الائیڈ اسپتال کا رخ کرتی ہے۔ کئی برسوں سے سرکاری اسپتالوں میں جدید مشینری کی عدم دستیابی اور نازک حالت میں مریضوں کو لاہور منتقل کرنے کی روایت ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ بجٹ کی فراہمی کے باوجود انتظامی سطح پر ان خامیوں نے عوام کے لیے سرکاری صحت کے نظام پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔